ایک خاتون ہے جس کا شوہر وفات پا گیا ۔اب اس کے گھر میں ایک جوان بیٹی بھی رہ گئی ۔ دونوں ماں بیٹی اکیلی ہیں ۔ ساتھ میں اس کی ماں کا گھر ہے۔ اب سوال یہ ہیں کہ اس خاتون کو اس گھر میں جان اور عزت کا خطرہ ہے ،کیو نکہ ماں بیٹی دونوں اکیلی ہیں ۔ کیا یہ صرف رات اپنی ماں کی گھر گزار سکتی ہے اور صبح واپس آجائے؟ان کی ماں کے گھر بھی کوئی مرد نہیں بھائی وغیرہ کے وہ رات کو ادھر آسکے ۔
واضح ہو کہ معتدۃ الوفاۃ کے لئے شوہر کے انتقال کے بعد عدت اپنے شوہر کے گھر میں ہی گزارنا لازم ہے،بغیر کسی عذر کےعدت کے دوران گھر سے باہر نکلنا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر شوہر کے گھر میں رہائش کی صورت میں کوئی جان، مال اور عزتِ نفس کا خطرہ ہو،تو بوجہ مجبوری اپنے والدین کے گھر عدت گزار سکتی ہے ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً خاتون کے لیے اپنے مرحوم شوہر کے گھر میں رات گزارنے کی صورت میں جان اور عزت کا خطرہ ہو، تو وہ اپنی واالدہ کے گھر میں ہی عدت گزارلے، دن میں گھر آنا، رات کو چلی جانا، یہ آنا جانا درست نہیں ، جس سے احتراز چاہیئے۔
کما فی المبسوط للسرخسی: وإن كانت في منزل مخوف على نفسها أو مالها وليس معها رجل كانت في سعة من الرحلة لأن المقام مع الخوف لا يمكن، وفي المقام ضرر عليها في نفسها ومالها وذلك عذر في إسقاط حق الشرع الخ (باب العدة وخروج المرأة من بيتھا، ج: 6، ص:36، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی الدر: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه الخ۔
وفی الشامیۃ تحت: (قوله: أو لا تجد كراء البيت) أفاد أنها لو قدرت عليه لزمها من مالها، وترجع به المطلقة على الزوج إن كان بإذن الحاكم كما مر. (قوله: ونحو ذلك) منه ما في الظهيرية: لو خافت بالليل من أمر الميت والموت ولا أحد معها لها التحول والخوف شديد وإلا فلا الخ ( فصل فی الحداد، ج: 3، ص: 534، ط: سعید)۔