اخوت فاؤنڈیشن سے قرض لیناکیسا ہے؟ جبکہ قرض کو قسطوں کی صورت میں وصول کرتاہے،تقریبا1لاکھ پر 15000اجارہ کے نام سے وصول کرتاہے، اسی طرح شراکت داری بھی کرتاہے تو شرعاً یہ کیسا ہے؟اخوت فاؤنڈیشن سے قرض لیناکیسا ہے؟ جبکہ قرض کو قسطوں کی صورت میں وصول کرتاہے،تقریبا1لاکھ پر 15000اجارہ کے نام سے وصول کرتاہے، اسی طرح شراکت داری بھی کرتاہے تو شرعاً یہ کیسا ہے؟
مذکورادارہ کے قرض دینے اورشراکت داری کے طریقہ کاراورشرائط وغیرہ کے بارے میں ہمیں تفصیل معلوم نہیں ،تاہم سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق اگر قرض کی رقم پر اضافی 15000 روپے "اجارہ / سروس چارج" کے نام سے لازمی طور پر مشروط کیے جاتے ہوں اور وہ کسی قسم کی حقیقی خدمت کا عوض بھی نہ ہوں، بلکہ محض قرض دینے کی وجہ سے ہوں، تو یہ قرض پر نفع ہونے کی بنا پر شرعاً جائز نہیں،البتہ اگرمذکوررقم متعین اورکسی حقیقی خدمت (جیسے دستاویزی اخراجات، انتظامی خدمات) کے عوض ہو،وہ قرض کے ساتھ مشروط نہ ہو، بلکہ علیحدہ معاہدہ ہو،اور اس کی رقم عرفاً معقول ہو،قرض کی کمی، زیادتی سے یہ اجرت کم زیادہ نہ ہوتی ہوتو ایسی صورت میں اس کی وصولی کی گنجائش ہو سکتی ہے۔
کما فی البحر الرائق: و فی الخلاصة القرض بالشرط حرام، والشرط ليس بلازم بأن يقرض على أن يكتب إلى بلد كذا حتى يوفي دينه. اهـ (فصل في بيان التصرف في المبيع والثمن قبل قبضه،ج:6،ص: 133، ناشر: دار الکتب الاسلامی)-
وفی الدر المختار: وفي الخلاصة: القرض بالشرط حرام، والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. وفي الاشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ
وفی رد المحتار تحت: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض،فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ(فصل فی القرض، ج: 5، ص: 166، ناشر:سعید)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0