میری شادی (نکاح اور رخصتی) کے 5 ماہ گزر جانے کے بعد میرے شوہر نے مجھے میرے والد کے گھر بھیج دیا۔ اُس کے 6 ماہ بعد انہوں نے مجھے طلاق کا تحریری نوٹس بھیجا۔اور اُن کا کہنا ہے کہ بیوی حق مہر اور سب تحائف (جو سونے کی صورت میں بیوی کو پہنائے گئے) کی حق دار نہیں کیونکہ 4 ماہ میں بیوی ازدواجی تعلق قائم کرنے میں قاصر رہی ہے۔جبکہ بیوی کے مطابق وہ کنواری نہیں ہے اور 4 ماہ دونوں رخصتی کے بعد الگ شہر، الگ گھر میں اکیلے رہے ہیں۔
1۔ تو کیا شوہر کے مطابق ازدواجی حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے بیوی حق مہر کی حق دار نہیں رہتی جو کہ نکاح نامہ میں مہر معجل لکھ کر نکاح کے وقت ہی ادا کر دیا گیا تھا؟
2۔ اور جو تحائف سونے کی صورت میں بیوی کو پہنائے گئے اُن کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے، طلاق کی صورت میں؟
3۔ بیوی کو جو بارات میں سلامی کے پیسے دئیے گئے، وہ کس کا حق ہے ؟
(شوہر نے بیوی کا آدھا حق مہر اور سب تحائف اور سلامی کے نقد پیسے اپنے پاس رکھ لئے ہیں، اور آدھا مہر یہ بول کر واپس کیا کہ یہ تمہارا کھانا پکانے کے بدلے، تم اس کی بھی حق دار نہیں ہو۔ اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا بیوی کسی چیز کی حقدار نہیں رہتی؟ کیا روز قیامت شوہر مجرم ہونگے؟ )
صورت مسؤلہ میں اگر میاں بیوی کے درمیان خلوت صحیحہ متحقق ہو چکی ہو اگرچہ اس دوران میاں بیوی میں ازدواجی تعلقات قائم نہ بھی ہوئے ہوں تب بھی بیوی طلاق کی صورت میں پورے حق مہر کی حقدار بن چکی ہے ،لہذا شوہر کا طلاق دے کر اس کے آدھے مہر سے منکر ہو جانا جائز نہیں ،اس پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو نکاح کے موقع پر طے کیا گیا پورا حق مہر اس کے حوالے کر دے ،نیز بارات کے موقع پر سلامی کے نام پر بیوی کو دیے کے تحائف اور رقم اس کی ملکیت ہیں ،طلاق کے بعد کسی کو اس کی واپسی کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ،البتہ حق مہر کے علاوہ زیورات کی شکل میں جو سونا دلہن کو دیا جاتا ہے، وہ ہمارے عرف و رواج میں بطور عاریت پہنوائے کے طور پر دیا جاتا ہے، جو علیحدگی کی صورت میں شوہر کو واپس لینے کا اختیار ہوتا ہے، لہذا اگر سائلہ کے سسرال کا عرف بھی یہی ہو تو اس کے شوہر کا مذکور زیور اپنے پاس روکنے کا حق حاصل ہے جس کی واپسی کا مطالبہ کرنے سے سائلہ کو احتراز کرنا چاہیے ۔