میرے میاں کا ایک لڑکی کے ساتھ تعلق تھا مجھے پتہ لگنے پر میرے ساتھ بہت جھگڑا کیا اور اس کے بعد یہ کہا کہ میں اب ایسا کچھ نہیں کروں گا اور معافی تلافی کر کے قران کی قسم دے کے سب کچھ صحیح ہو گیا دوسری دفعہ پھر ان کا اسی لڑکی کے ساتھ تعلق تھا پر مجھے نہیں پتا تھا مجھے جب پتہ چلا تو میں نے پھر جھگڑا کیا آپ کیوں نہیں چھوڑ رہے اس لڑکی کو؟ تو انہوں نے مجھے دو طلاق دے دی اس کے بعد پھر انہوں نے دوبارہ قران کی قسم اور سارا کچھ کر کے میرے ساتھ رجوع کیا اور مجھے گھر واپس لے ائے اور پھر وعدہ کیا کہ میں آئندہ کبھی بھی اس لڑکی سے بات نہیں کروں گا نہ ہی ملوں گا اور تمہاری تسلی کے لیے کیونکہ میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر میں نے اس لڑکی سے دوبارہ بات کی یا میں اس لڑکی سے ملا تو تم میرے پہ حرام ہو جاؤ گی اس کے بعد آٹھ مہینے تک مجھے کچھ بھی پتہ نہیں چلا ابھی دو ہفتے پہلے مجھے پتہ چلا کہ وہ تو ابھی بھی اس کے ساتھ ہے اور میں آفس چلی گئی تو وہ ادھر بیٹھی ہوئی تھی تو انہوں نے تو بات بھی کر لی اور مل بھی لیا تو میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا میری تیسری طلاق بھی ہو گئی؟
صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اگر صریح الفاظ " تمہیں طلاق دیتا ہوں "وغیرہ کے ذریعہ دو طلاقیں دے کر رجوع کرلیا ہو ،تو شرعا بھی یہ رجوع صحیح ہوکر میاں بیوی کا ساتھ رہنا درست واقع ہوا ہے ، چنانچہ اس کے بعد جب سائلہ کے شوہر نے سوال میں ذکر کردہ الفاظ "اگر میں نے اس لڑکی الخ" کہے ہو ،تو اس سے ایک مزید طلاق معلق ہوچکی تھی ، جس کے بعد شوہر کا اس غیر محرم لڑکی سے بات چیت وغیرہ کرنے پر تیسری معلق طلاق بھی سائلہ پرواقع ہو کر مجموعی تین طلاقوں سے حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
وفی الدر المحتار : الكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب أو لا ولا ( فنحو اخرجي واذهبي وقومي ) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة ( يحتمل ردا ونحو خلية برية حرام
وفي رد المحتار تحت قوله: ( يحتمل ردا ) أي ويصلح جوابا أيضا ولا يصلح سبا ولا شتما ح وتحت قوله ( حرام ) وسيأتي وقوع البائن به بلا نية في زماننا للتعارف لا فرق في ذلك بين محرمة وحرمتك سواء قال علي أو لا أو حلال المسلمين علي حرام وكل حل علي حرام وأنت معي في الحرام الى قوله ثم اعلم أن ما ذكره من الإيراد والجواب مذكور في البزازية أيضا ومقتضى الجواب وقوع الرجعي به في زماننا لأنه لم يتعارف إيقاع البائن به فإن العامي الجاهل الذي يحلف بقوله علي الحرام لا أفعل كذا لا يميز بين البائن والرجعي (باب الكنايات،ج:٣،ص:٢٩٩ ناشر: ايچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ: في الكنايات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال الى قوله ولو قال أنا منك بائن أو أنا عليك حرام ونوى الطلاق يقع ( الفصل الخامس في الكنايات ج:١،ص:٣٧٥،ناشر: ماجدية)
وفي الهداية: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق( باب الايمان في اطلاق ج:٢ ص:٨١،ناشر: انعامية)