میرے شوہر نےمجھے نشے کی حالت میں تین مرتبہ گواہوں کی موجودگی میں طلاق دی، تو کیا طلاق ہوگئی یا نہیں؟
واضح ہو کہ نشے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا اگرچہ سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کے شوہر نے نشے کی حالت میں طلاق کے کیاالفاظ استعمال کیے ہیں ،تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم اگرواقعۃً سائلہ کے شوہرنے واضح الفاظ جیسے (میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،یا میں نے تمہیں طلاق دی وغیرہ) کے ساتھ اسے تین مرتبہ طلاق د ے دی ہوتو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور بغیرحلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ،اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ سائلہ ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ : طلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ . و هو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط اھ (1/ 353)۔
و فیھا ایضا: إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ(1 /473)۔