مجھے فقہ حنفی کے مطابق طلاق کے بارے میں رہنمائی چاہیے۔
میرے شوہر نے کبھی میرا خرچہ (نفقہ) نہیں اٹھایا، 2018 میں جب میں حاملہ تھی، تو مجھے پتہ چلاکہ ان کے تعلقات ایک اور عورت کے ساتھ ہیں، اُس وقت انہوں نے مجھے لکھ کر "طلاق" بھیجا تھا، اور بعد میں خود بھی ایک فتویٰ لیا تھا کہ ایک طلاق واقع ہوچکی ہے،اس کے بعد بھی ان کے تعلقات دوسری عورتوں سے رہے، اور اب بھی ایک غیر مسلم عورت کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اس وجہ سے میں نے ان سے طلاق لینے کا فیصلہ کیا ،اور علیحدہ ہوگئی،بعد میں واٹس ایپ گفتگو میں انہوں نے بار بار مجھے یہ جملے بھیجے،
آج سے تم آزاد ہو، میں تمہیں اب آزاد کرتا ہوں،میں تمہیں اب آزاد کرتا ہوں،You are free now،یہ الفاظ طلاق اور رشتہ ختم کرنے کے ہی سیاق و سباق میں کہے گئے تھے، مذاق کے طور پر نہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اب بھی مجھ سے رابطہ کر رہے ہیں۔میرا سوال یہ ہے:
(1) 2018 کا لکھا ہوا "طلاق" ایک معتبر طلاق شمار ہوگا؟
(2): بعد کے جملے "تم آزاد ہو / میں تمہیں آزاد کرتا ہوں / You are free now" فقہ حنفی کے مطابق طلاق کے الفاظ ہیں؟
(3): اگر ہیں تو اب تک کل کتنی طلاقیں ہوچکی ہیں؟
(4): کیا میری شادی شرعاً ختم ہوچکی ہے (طلاقِ بائن / طلاقِ مغلّظہ)، یا مجھے پھر بھی عدالت جا کر خلع لینا ہوگا؟
مہربانی فرما کر فقہ حنفی اور مستند ذرائع (جیسے الفتاویٰ الہندیہ) کے حوالے سے واضح جواب دیں۔سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو،اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے 2018 میں سائلہ کو " طلاق"دی ہو ،تو اس سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی تھی،جس کے بعد سائلہ کے شوہر کو دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل تھا،چنانچہ اس کے بعد اگر واقعۃًسائلہ کے شوہر نے دورانِ عدت رجوع کرلیاہو تو شرعاً بھی یہ رجوع درست ہوچکا تھا،جس کے بعد سائلہ کے شوہر کوآئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی تھا، لہذا اب حالیہ واقعہ کے دوران سائلہ کے شوہر نےجب مزید کئی بار واٹس ایپ گفتگو پر مذکورالفاظ" آج سے تم آزاد ہو،میں تمہیں اب آزاد کرتا ہوں•You are free now"لکھ کر بھیج دیے ،تو اس سے سائلہ پربقیہ دوطلاقیں بھی واقع ہوکر مجموعی اعتبار سے تینوں طلاقوں کے ساتھ حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،جبکہ بقیہ الفاظِ طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغوہوچکے ہیں ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور بغیرحلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ،اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے، جبکہ سائلہ ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ : فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ۔ الآیة (البقرة/230)۔
و فی صحیح البخاری : عن عائشة " ان رجلا طلق امراته ثلاثا فتزوجت ،فطلق ، فسئل النبي صلى الله عليه و سلم: اتحل للاول؟ قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول " . (5261)۔
و فی ردالمحتار : فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (3/299)۔
وفی الھندیہ:ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك أو أبنتك أو أبنت منك أو لا سلطان لي عليك أو سرحتك أو وهبتك لنفسك أو خليت سبيلك أو أنت سائبة أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. فقالت: اخترت نفسي. يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء اھ (1/375)۔
وفیھا ایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نکاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية الخ(473 /1)۔