میں شادی شدہ ہوں اور میری بیوی پاکستان میں ہے۔ کچھ ٹائم پہلے میں لڑکیوں کے ساتھ آن لائن چیٹنگ کرتا تھا، جس میں چیٹ کے دوران جب کوئی لڑکی پوچھتی تھی کہ کیا میں شادی شدہ ہوں، تو کبھی میں کہتا تھا کہ میں شادی شدہ نہیں ہوں اور میں سنگل ہوں۔ کبھی میں کہتا تھا کہ میری طلاق ہو گئی ہے یا ہمارا بریک اپ ہو گیا ہے۔ اکثر اوقات میں اپنی بیوی کے بارے میں نہیں سوچتا تھا جب میں ان لڑکیوں سے بات کرتا تھا اور میں ان سے جھوٹ بولتا تھا، کیا ایسا کہنے سے طلاق ہو گئی ہے؟ ایک بات اور کہ میں نے کبھی اپنے منہ سے (زبانی) نہیں کہا، ہمیشہ ٹیکسٹ میسج کے ذریعے کہا ہے۔ تو کیا واقعی طلاق ہو گئی ہے؟ اگر ہو گئی ہے تو کتنی طلاقیں ہوئیں؟ کیا مجھے رجوع کرنا پڑے گا؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کا نا محرم خواتین سے اس طرح بے تکلف ہوکر بات چیت کرنا اور اپنی شادی شدہ حیثیت کو چھپانا جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی عمل ہونے کے ساتھ شرعاً بھی ناجائز و حرام ہے جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوا ہے جس پر اسے بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لیے مکمل اجتناب لازم ہے۔
جہاں تک طلاق کے وقوع کا تعلق ہےتو اگرچہ سائل کے مذکور الفاظ "میں شادی شدہ نہیں ہوں یا میں سنگل ہوں" کہنے سے اس کی بیوی پر شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی البتہ جب سائل نے کسی کے پوچھنے پر اپنی بیوی کے متعلق مذکور الفاظ " میری طلاق ہوچکی ہے " کہے تو چونکہ یہ طلاق کا اقرار ہے اور طلاق کا اقرار خواہ جھوٹا ہی کیوں نہ ہو تب بھی اس سےشرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، اور سوال سے چونکہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سائل نے مذکور جملہ کئی مواقع پر دہرایا ہے اور اس کے متعلق سائل نے سوال میں کوئی وضاحت نہیں کی کہ پہلی دفعہ کے اقرار کے بعد جتنی بار یہ الفاظ استعمال کئے اس سے اس کا مقصود و ارادہ کیا تھا تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا تاہم اگر اس سے سائل کا مقصود اسی پہلی طلاق کی خبر دینا ہو ،نئی طلاق کا ارادہ نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگی جس کے بعد سائل کو دوران عدت رجوع کرنے کا اختیار ہوگا چنانچہ اگر وہ دوران عدت زبانی طور پر کہ تم میری بیوی ہو یا میں رجوع کرتا ہوں جیسے الفاظ کہے یا عملاً میاں بیوی والا تعلق قائم کرلے تو اس سے رجوع بھی ہو کر دونوں کا نکاح بحال ہوجائے گا ،تاہم آئندہ سائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا اس لئے آئندہ اس طرح کے الفاظ کہنے سے مکمل اجتناب لازم ہے ۔
کما في فتاوی الهندية:أوسئل فقيل له هل لک امرأة فقال لا فان قال اردت به الكذب يصدق في الرضا والغضب جميعا ولا يقع الطلاق ، وان قال نويت الطلاق يقع الطلاق في قول ابی حنيفة رحمة الله تعالى ..... ولو قال مالى امرأة لا يقع وإن نوی اھ (1 /375)۔
وفی المحيط البرهاني في الفقه النعماني :ولو قال لها: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت فقال طلقتها قال: أو قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء لأن قوله في المرأة الثانية خرج جواباً فيكون إخباراً عن الإيقاع الأول ليتحقق جواباً بخلاف المسألة المتقدمة لأن قوله في المرة الثانية خرج على سبيل الابتداء فكان إيقاعاً (323/6)
وفی بدائع الصنائع : ولو قال لامرأته: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت؟ فقال: طلقتها أو قال قلت: هي طالق فهي واحدة في القضاء؛ لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة الاستخبار (102/3)