محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میں اپنی بیٹی کے نکاح کے متعلق شرعی راہنمائی چاہتا ہوں۔ حالات کا خلاصہ درج ذیل ہے:
میری بیٹی کا نکاح نومبر 2024 میں ہوا۔ شادی کے فوراً بعد داماد کا رویہ انتہائی ظالمانہ اور ناروا ثابت ہوا۔ وہ معمولی باتوں پر چیخنے چلّانے لگتا، ماں بہن کی گالیاں دیتا، بیجا بدگمانیاں کرتا، بار بار جہیز کا مطالبہ کرتا، مجھ اور میری بیوی کی توہین کرتا، اور کئی مرتبہ میری بیٹی پر ہاتھ بھی اٹھایا — حتیٰ کہ اسپتال میں ایک مرتبہ سب کے سامنے بیٹی کے منہ پر تھپڑ مارا۔ اس کے علاوہ اس نے بیٹی کو دوستوں سے تعلق ختم کرنے پر مجبور کیا، خاندان سے رابطہ محدود کیا، ہمارے پیغامات چیک کرتا اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو لڑائی کی وجہ بنا دیتا۔ یہ سب کچھ میری بیٹی کے لیے شدید ذہنی اذیت کا سبب بنا۔
ایک مرتبہ جب ہم معاملہ بات چیت سے سلجھانے گئے تو میری بیوی نے نہایت نرمی سے پوچھا:
“ایسا کیا بڑا قصور ہے میری بیٹی کا جو آپ اسے طلاق دینا چاہتے ہیں؟”
اس پر وہ فوراً غصے سے کھڑا ہوگیا، اونچی آواز میں چیخنے لگا اور میرے اور میری بیوی کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کی۔
مئی 2025 میں میری بیٹی نے روتے ہوئے ہمیں فون کیا اور بتایا کہ اس کے شوہر نے صاف الفاظ میں کئی بار طلاق دے دی ہے۔ کچھ دیر بعد وہی کہنے لگا کہ میرا ارادہ نہیں تھا۔ میں نے اسی وقت ایک عالم سے رجوع کیا، انہوں نے وضاحت کی کہ اگر غصے میں بھی الفاظِ طلاق صاف طور پر ادا کیے جائیں تو وہ واقع ہوجاتی ہے، اور یہ ایک طلاق شمار ہوگی۔
4 اگست 2025 کو پھر اس نے بیٹی کے ساتھ سخت جھگڑا کیا، اسے مارا پیٹا، گالیاں دیں اور طلاق دینے کی دھمکی دی۔
26 اگست 2025 کو اس نے ایک بار پھر صاف الفاظ میں بیٹی کو کئی بار طلاق دی۔
اس سارے عرصے میں اس کے والدین نے کبھی بھی ہم سے رابطہ نہیں کیا، نہ معاملہ سلجھانے آئے۔ جب ہم نے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہمارے کالز ریسیو کرنا بھی بند کردیں۔
اب میرا داماد اور اس کا خاندان یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ “غصے کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی، اس لیے کوئی طلاق نہیں ہوئی۔” جبکہ حقیقت یہ ہے کہ:
وہ بار بار صاف الفاظ میں طلاق دیتا ہے۔
بعد میں اپنی بات سے مکر جاتا ہے اور کہتا ہے: “میں نے تو ڈرانے کو کہا تھا، میرا ارادہ نہیں تھا۔”
یہ سلسلہ بار بار دہراتا رہا ہے جس نے میری بیٹی کو شدید ذہنی اذیت اور صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔
درخواست:
میں دارالافتاء سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ:
برائے کرم وضاحت فرمائیں کہ مذکورہ بالا واقعات میں کتنی طلاق واقع ہوچکی ہیں۔
اس وقت اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
میری خواہش ہے کہ اس معاملے میں ہم صرف شریعت کی روشنی میں عمل کریں۔
جزاکم اللہ خیراً
تنقیح:
السلام علیکم
محترم آپ کے داماد نے پہلے یا بعد میں طلاق کے جو الفاظ کہے تھے وہ بیٹی سے معلوم کرکے بعینہ لکھ کر بھیج دیں اور اسی طرح اگر کوئی وائس ریکارڈ یا کوئی دوسرا ثبوت ہو طلاق دینے کے متعلق تو وہ بھی ارسال کردیں تاکہ اس پر غور کرکے جواب لکھا جاسکے۔شکریہ
جواب تنقیح:
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
آپ کی ہدایت کے مطابق وضاحت عرض ہے کہ میری بیٹی کے بیان کے مطابق 26 اگست 2025 کو جھگڑے کے دوران اس کے شوہر نے صاف الفاظ میں تین مرتبہ کہا:
“میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”
ہمارے پاس اس واقعے کی کوئی تحریری یا ریکارڈنگ بطور ثبوت موجود نہیں ہے۔ صرف میری بیٹی کا براہِ راست بیان ہے کہ اس کے شوہر نے یہ الفاظ کہے۔
برائے کرم اس معاملے میں شرعی رہنمائی فرما دیں
مفتی غیب نہیں جانتا،وہ سوال کے مطابق جواب دینے کاپابندہوتاہے ،سوال کے سچ و جھوٹ کی ذمہ داری سوال کرنے والے پرعائدہوتی ہے اس مختصرتمہیدکے بعدواضح ہوکہ سائل کابیان اگرحقیقت پرمبنی ہواوراس میں کسی قسم کی غلط بیانی اوردروغ گوئی کا سہارانہ لیاگیاہوتواس صورت میں اگر واقعۃًسائل کی بیٹی کے شوہر نے 26 اگست 2025 یااس سے پہلے مئی 2025کو یہ الفاظ کہے ہوں :
"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"تواس سے سائل کی بیٹی پرتینوں طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،جس کے بعدرجوع نہیں ہوسکتااورنہ ہی بغیرحلالہ شرعیہ دوبارہ باہم عقدنکاح ہوسکتاہے ،لہذاان دونوں پرلازم ہے کہ فوراایک دوسرے سے علیحدگی اختیارکریں اورسائل کی بیٹی آخری بارکے ازدواجی تعلق کے بعدسے تین حیض عدت گزارکردوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہوگی۔
قال اللہ تبارک وتعالیٰ فی التنزیل: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}." (البقرة: 230)
وفی الفتاوی الھندیة: "وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير."(کتاب الطلاق،الباب السادس فی الرجعۃ و فیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، فصل فیما تحل بہ المطلقہ ومایتصل بہ، ج:1،ص:473:ط:رشیدیہ)
وفی بدائع الصنائع: "وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠]". (کتاب الطلاق ،فصل :حکم الطلاق البائن،ج:3،ص:187، ط:سعید)