''توآزاد ہے'' دو تین بار کہا ہو مختلف اوقات میں ،کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے ؟
واضح ہو کہ'' آزاد ہو '' کا لفظ ،چونکہ ہمارے عرف میں طلاق کے معنی میں مستعمل ہونے کی وجہ سے الفاظ صریح میں سے ہو چکا ہے، لہذا اب اگر اس لفظ سے کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے گا تو طلاق صریح میں سے ہونے کی وجہ سے بغیر نیت بھی اس لفظ کےکہنے والے کی بیوی پر طلاق رجعی واقع ہو جائے گی ،لہذا صورت مسؤلہ میں (اگر دوران عدت یا پہلی اور دوسری طلاق کی عدت میں رجوع کے بعدشوہر نے یہ الفاظ کہے ہوں تو)ان الفاظ کے تین مرتبہ کہنے سے تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،اورعورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
کما فی سنن النسائی :عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ فَقَالَ: «لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ (ج:2،ص:84)
و فی رد المحتار : أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت۔(رد المحتار ،كتاب الطلاق ،باب الصريح ،مطلب في قول البحر ان الصريح ۔۔۔ج4 ص464)
و فیہ ایضا :إذا قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ،لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ،لولا ذالك لوقع به الرجعي ۔۔۔ومثله ما قدمناه في أول باب الصريح من وقوع الرجعي بقوله سن بوش أو بوش أو في لغة الترك مع أن معناه العربي أنت خلية وهو كناية لكنه غلب في لغة الترك استعماله في الطلاق (ج4 ص530)
و فی بدائع الصنائع : والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إن كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة، مثل أن يقول في عرف ديارنا: دها كنم أو في عرف خراسان والعراق بهشتم؛ لأن الصريح لا يختلف باختلاف اللغات وما كان في الفارسية من الألفاظ ما يستعمل في الطلاق وفي غيره فهو من كنايات الفارسية
فيكون حكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام والله أعلم (ج:3،ص102)