السلام علیکم، محترم مفتی صاحب! چند دن پہلے میں نے قسم کھائی کہ اگر میں فلاں کام کروں گا تو میری بیوی کو تین طلاق، یعنی "ثلاثاًطلاق" ہو، لیکن مفتی صاحب اُس وقت میرا ارادہ صرف خود کو اُس کام سے روکنے کا تھا، طلاق دینے کا نہیں،براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ اگر میں نے وہ کام کر لیا تو کیا طلاق واقع ہوگی؟
واضح ہو کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلّق کرنے کی صورت میں، شرط کے پائے جانے کے ساتھ ہی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے مذکورہ الفاظ "اگر میں فلاں کام کروں تو میری بیوی کو تین طلاق"سے تین طلاقیں معلّق ہوچکی ہیں،اب اگر سائل وہ کام کرلے گا تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوجائے گی، اس صورت میں نہ تو رجوع ہوسکے گا، اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ عقدِ نکاح ہوسکے گا،جبکہ عورت عدّت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی،اس لیے سائل کو چاہئیے کہ جس کام کے کرنے کے ساتھ طلاق کو معلّق کیا ہے، اس کام سے احتراز کرے۔اور اگر سائل یہ چاہتا ہو کہ وہ فلاں کام بھی کرے اور اس کی بیوی پر معلق طلاق بھی واقع نہ ہو، تو اس کے لیے یہ تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے کہ سائل اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے، اور عدّت کے اختتام تک وہ کام نہ کرے،جب عدّت گزر جائے، تو سائل وہ کام کرلے، اس وقت چونکہ اس کی بیوی اس کے نکاح میں نہیں ہوگی، لہٰذا سائل کے اس کام کرنے سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، اور شرط بھی پوری ہوجائے گی۔اس کے بعد سائل گواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرلے،پھر اگر سائل وہی کام دوبارہ کرلے، تو اس کی بیوی پر مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔تاہم اس کے بعد سائل کو دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، لہٰذا طلاق کے معاملے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔
کما في الدر المختار: (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها(3/355)--
و فی الفتاوى الهندية: و إذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ، (الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن و إذا و غيرهما، ج:1، ص: 420، ط: ماجدیہ)-