السلام علیکم
میں ایک کار ڈیلر ہوں۔
کار بیچنا میرا کام ہے اور یہ فطرت ہے کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ کار خریدنے کے لیے قرض کی سہولت دستیاب ہے یا نہیں اور میں نے انہیں صرف ان کے قرض کی ضروریات اور قرض کے عمل کے لیے ایجنٹ یا بینکر کا نمبر دیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ بینکنگ سیکٹر یا قرض میں شامل ہونا حرام ہے اس لیے میں صرف ایجنٹ یا شخص کا نمبر دیتا ہوں اور انہوں نے ایک دوسرے سے رابطہ کیا،
آج کا ہر کوئی لون کے شعبے سے وابستہ ہے جہاں آپ موبائل خریدتے ہیں دکاندار ٹائی اپ کرتے ہیں یا ارنج ایجنسیوں سے منظور شدہ لون لیتے ہیں، اسی طرح اگر ہم پراپرٹی یا فلیٹس خریدتے ہیں تو آپ قرض کے عمل کے بغیر ڈیل نہیں کر سکتے اور اگر آپ ایسی 1 کروڑ کی سرمایہ کاری نقد کرتے ہیں تو حکومت یا محکمہ انکم ٹیکس ضرور آپ سے تفتیش کرے گا کہ آپ کو فلیٹ یا پراپرٹی خریدنے کے لیے 1 کروڑ کیسے ملے۔
تو میرا سوال آسان ہے اگر میں نے اپنے گاہک کو صرف ایجنٹ نمبر یا بینکر نمبر دیا ہے تو میں شریعت کے مطابق سودی معاملات میں ملوث ہوں یا نہیں،
اسی طرح ایک موبائل دکاندار، موٹر سائیکل ڈیلر جو اپنی مصنوعات گاہکوں کو فروخت کرتا ہے اور گاہک کا مطالبہ ہے کہ ہم اسے قرض پر چاہتے ہیں تو صرف نمبر پاس کرنے کے بعد ایجنٹ کا اسلام و شریعت کے مطابق حلال ہے یا نہیں، میں نے سنا ہے کہ سود لینا اور دینا حرام ہے بشمول ریکارڈ رکھنے والے اور سود کے معاملات کے گواہ بھی چوتھے طبقے کے جنہوں نے اللہ کی لعنت بھیجی ہے، اس طرح کے معاملے سے بچنے کا طریقہ بتائیں۔
اور قرآن شریف اور احادیث کی روشنی میں قرض کی بنیاد پر کار یا موبائل کی فروخت کا اور کیا طریقہ ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگرسائل کاکام گاڑیوں کی خریدوفروخت ہواوراس لین دین میں وہ غیرشرعی امورکاارتکاب نہ کرتاہواورنہ ہی سودی معاملات یا کمیشن لینے میں شریک ہوتاہو، تو محض كسٹمركوبنك يا ايجنٹ كا نمبر بتادینے سے وہ براہِ راست سودی معاملہ میں داخل شمار نہیں ہوگا۔اورنہ ہی اس متعلق واردوعیدکامستحق ہوگا۔
لیکن سودی لین چونکہ حرام ہے، اور احادیثِ مبارکہ میں سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور گواہ بننے والے سب پر وعید آئی ہے، اس لیے سائل کو حتی الامکان ایسے معاملات سےخود دور رہنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل : ﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٢﴾ [المائدة: 2]
وفي «مسند أحمد» : عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لعن الله آكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه ". قال: وقال: " ما ظهر في قوم الربا والزنى، إلا أحلوا بأنفسهم عقاب الله عز وجل "(6/ 358 ط الرسالة)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0