السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا نکاح میرے کزن سے ہوا ہے، اس سے پہلے میرے والدین بھی آپس میں کزن تھے، اور میری بہن کے بچوں کو بھی پیدائشی مسائل کا سامنا ہے، اب شادی کے بعد میں نے میڈیکل ٹیسٹ کروائے ہیں، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ میرے اور شوہر کے درمیان قدرتی طور پر حمل ممکن نہیں ہے،اگر حمل ہوتا بھی ہے تو وہ میرے اور بچے دونوں کی صحت کے لیے خطرہ ہے،صرف سپرَم ڈونر یا ایگ ڈونر کے ذریعے بچہ پیدا کیا جا سکتا ہے، مزید یہ کہ ہمارے درمیان جنسی تعلق بھی بیماری اور نقصان کا باعث بن سکتا ہے، جس سے دونوں ایک دوسرے کو بیمار ی لگا سکتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ(1) کیا شریعت میں ایسی شادی کو لازماً برقرار رکھنا ضروری ہے؟(2) کیا میں ان وجوہات کی بنیاد پر خلع یا علیحدگی کا مطالبہ کر سکتی ہوں؟ (3)اور اگر میں نکاح ختم کرنا چاہوں تو کیا یہ شرعاً درست ہوگا؟ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ نکاح سے قبل تو شریعتِ مطہرہ نے بالغ لڑکے اور لڑکی کو کسی مناسب جگہ نکاح کرنے کا اختیار دیا ہے ،تاہم جب لڑکے ،لڑکی کا باہمی رضامندی سے باقاعدہ نکاح ہو جاتا ہے ،تو پھر کسی شرعی عذر کے بغیر عورت کو شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا ،یا اپنا نکاح بذریعہ عدالت و پنچائیت فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہو تا ،لہذا سائلہ نے سوال میں جو تفصیل ذکر کی ہے ، یہ ایسے اسباب نہیں جن کی وجہ سے سائلہ کو بذریعہ خلع و فسخ اپنا نکاح اپنے شوہر سے ختم کرنے کا اختیار ہو ، لہذا سائلہ کے لیے طلاق کا مطالبہ کر کے یا بذریعہ عدالت و پنچائیت اپنا نکاح فسخ کر کے علیحدگی کا حق حاصل نہیں ،تاہم اگر سائلہ اور اس کے شوہر کے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے حدود اللہ کی رعایت رکھتے ہوئے اس رشتہ کو باقی رکھنا ممکن نہ ہو ،تو سائلہ کے شوہر کو چاہیئے کہ وہ سائلہ کو طلاق دے کر اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کر دے، تاکہ وہ عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کر سکے ۔