میرا سوال رخصتی سے پہلے طلاق کے بارے میں ہے۔
میرے شوہر اور میرے خاندان کے درمیان باہمی اختلافات کی وجہ سے دونوں طرف سے نباہ نہ ہو سکا اور رخصتی سے پہلے ہی نکاح ختم کرنے کا فیصلہ ہو گیا۔ اس سلسلے میں مجھے چند مہینے پہلے عدالت کی طرف سے پہلا طلاق کا نوٹس موصول ہوا، جس میں تین کاغذات شامل تھے اور تینوں پر طلاق لکھی ہوئی تھی۔ پھر اگلے مہینے دوسرا نوٹس آیا، اس کے بعد میرے شوہر کے گھر والوں نے رشتہ برقرار رکھنے کی درخواست کی، جس پر ہم نے کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی۔ پھر کچھ دنوں بعد تیسرا نوٹس آ گیا۔ ہر نوٹس کے بعد مجھے عدالت جانا ہوتا تھا اور وہاں جا کر انگوٹھے کا نشان لگانا پڑتا تھا، اس سے پہلے وہ لوگ پوچھتے تھے کہ کیا آپ صلح کرنا چاہتی ہیں یا نہیں۔ تیسرے نوٹس کے بعد جب میں دفتر گئی تو انہوں نے دوبارہ مجھ سے وہی صلح والا سوال کیا، جس پر میں نے کہا کہ شرعی طور پر یہ نکاح ختم ہو چکا ہے اور اس سوال کا اب کوئی مطلب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام طلاقیں ایک ہی طلاق کے برابر شمار ہوں گی اور اگر آپ اب بھی صلح کرنا چاہیں تو ہم اس معاملے میں آپ کی مدد کریں گے۔ وہاں موجود ایک وکیل نے بھی یہی بات کہی کہ شرعی طور پر بھی یہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی۔
میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا اب دوبارہ اسی شخص سے نکاح ممکن ہے یا نہیں؟ مجھے اس سوال کا جواب جلد از جلد درکار ہے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
صورت ِمسئولہ میں اگر سائلہ کےشوہر نے نکاح کے بعد رخصتی و خلوتِ صحیحہ سے قبل ایساطلاق نامہ بنواکر بھیجاہوجس کے تین الگ الگ صفحات پر ایک ایک طلاق درج ہو ، تو اس سے سائلہ پرصرف ایک طلاق بائن واقع ہو کرنکاح ختم ہوچکا ہے ، لیکن اس صورت میں دوبارہ نکاح کرنے کی گنجائش باقی ہےلہذا اب اگر باہمی رضامندی سےدونوں دوبارہ میاں بیوی کی طرح ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں تو باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب وقبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں ،تاہم آئندہ کے لئے سائلہ کے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا ۔
کما فی الدرالمختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق،الخ (باب الطلاق غیر المدخول بھا،ج: 3، ص: 286، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق الخ (کتاب الطلاق الفصل الرابع فی الطلاق قبل الدخول ج: 1، ص: 373، ط: ماجدیہ)۔