کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس بارے میں کہ میاں بیوی کے درمیان مسنون طریقے سے پاکستان کے قوانین اور طریقہ کار کے مطابق دونوں خاندانوں کی باہمی رغبت و رضا سے نکاح منعقد ہوا۔ اس نکاح کے نتیجے میں دو بچے بھی پیدا ہوئے۔ لیکن چودہ برس کے دوران میاں بیوی میں مکمل ہم آہنگی پیدا نہ ہوسکی اور شوہر کی جانب سے تشدد اور بیوی کے اپنے ماں باپ کے گھر لوٹ آنے کے متعدد واقعات پیش آئے۔ محلے کے شرفاء اور ذمہ داران کے متعدد جرگے بھی منعقدہوئے۔ آخری واقعہ جولائی 2025 میں پیش آیا۔ اس دن شوہر کی جانب سے حق مہر معاف کرنے کا مطالبہ پر بیوی نے انکار کیا اور شوہر کی جانب سے تشدد کی اطلاعات پر علاقے کے ناظم اور سات دیگر اہم افراد شوہر کے گھر جمع ہوئے ،جہاں بیوی نے تشدد کی شکایت دہرائی۔ بحث و مباحثہ کے بعد جرگے نے شوہر، ان کے والد اور دیگر چند افراد کی موجودگی میں طلاق کی شرائط طے کیں۔طے پایا کہ شوہر طے شدہ رقم کا ایک حصہ تین دن بعد اور دوسرا حصہ ایک سال بعد ادا کرے گا۔ شوہر نے اس موقع پر نکاح کی انگوٹھی واپس کی۔ لڑکی نے اپنا ضروری ذاتی سامان شوہر کی موجودگی میں محفوظ کیا ۔اس موقع پر جرگے کا ایک فرد بھی موقع پر موجود تھا۔ بعد ازاں لڑکی اپنے والد کے ہمراہ واپس آگئی۔ مقررہ دن کے سات دن بعد جرگے کے افراد اور لڑکی کے والد طلاق کی شرائط کے مطابق پہلی قسم اور طلاق نامہ لینے کے لئے جمع ہوئے اور شوہر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدےمطابق ادائیگی کرےاور طلاق کا اعلان کرے۔ شوہر نے موقف اختیار کیا کہ وہ طلاق نہیں دینا چاہتا اور اس نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ سوال: شوہر کے رویے پر تبصرہ فرمائیں۔ سوال: طلاق کی شرعی حیثیت کا تعین فرمائیں۔ سوال: اس صور ت میں یہ تجویز بھی مختلف ذرائع سے پہنچائی جارہی ہے کہ حق مہر اور دیگر اشیاء اگر لڑکی کی جانب سے معاف کردیا جائے تو طلاق نامہ جاری کردیا جائے گا۔
واضح ہو کہ وعدۂ طلاق سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر جرگے کے موقع پرشوہر نے طلاق کا لفظ ادا نہ کیا ہو،بلکہ موعودہ تاریخ کو طلاق دینے کا صرف ارادہ ظاہر کیا ہو تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پرطلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا لڑکا لڑکی اور دونوں کے گھر والوں کو چاہیئے کہ وہ طلاق کے معاملہ میں جلد بازی کرنے کے بجائے افہام و تفہیم سے معاملہ کو حل کرکے دونوں کا گھر بسانے کی فکر کریں۔
کما فی الھندیۃ: وفی المحیط لو قال بالعربیۃ أطلق لا یکون طلاقاً إلا إذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقاً الخ(الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ،ج1،ص384،ط:ماجدیۃ)۔
وفی البحر الرائق: ولیس منہ أطلقک بصیغۃ المضارع الا اذا غلب استعمالہ فی الحال الخ (باب الطلاق، ج 3، ص 252،ط: ماجدیۃ)۔