السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! حضرات علماءِ کرام و مفتیانِ عظام مؤدبانہ عرض یہ ہے کہ میری بھانجی کا نکاح ایک بندہ کے ساتھ ہوا تھا۔ نکاح کے کچھ دن بعد معلوم ہوا کہ لڑکا آوارہ اور نشہ باز ہے۔ ابھی تک لڑکی کی رخصتی بھی نہیں ہوئی ہےاور لڑکا بھی لا پتہ ہے۔ اور نکاح کے وقت حقِ مہر بھی ادا نہیں کیا ہے۔ ابھی ہم فسخِ نکاح چاہتے ہیں، برائے مہربانی اس مسئلہ پر شریعت کے مطابق روشنی ڈالتے ہوئے ہماری رہنمائی فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی
نوٹ: سائل سے معلوم کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ مذکور لڑکا کم از کم ڈیڑھ سال سے لا پتہ ہے نہ گھر والوں کو اس کی خبر ہے اور نہ لڑکی والوں کو۔
صورتِ مسؤلہ میں اگر والدین نے اپنی بیٹی کی خوشی و رضامندی سے ،بغیر کسی کفوء کی شرط کے، باقاعدہ دو گواہوں کی موجودگی میں اپنی بیٹی ( سائل کی بھانجی ) کا نکاح مذکور لڑکے سے کردیا تھا تووہ نکاح شرعاً منعقد ہوچکا تھا۔ البتہ اگر مذکورلڑکا ایسالاپتہ ہو کہ اس کی موت و حیات کا کوئی علم نہ ہو،تو شرعاً وہ مفقود کے حکم میں ہے،اور مفقود کی بیوی کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ حاکم مسلم (جج) کے پاس اپنا مقدمہ دائر کرے اور تنسیخِ نکاح کا فیصلہ کرواکر عقدِ ثانی کرے جس کی مکمل تفصیل درج ذیل ہے:
سب سے پہلے تو عورت کیلئے اصل حکم یہ ہے کہ اگر وہ صبر کرکے اپنا زمانہ عفت اور پاک دامنی کے ساتھ گزارسکے تو بہتر ہے، اگر صبر نہ کرسکے تو بوقتِ ضرورتِ شدیدہ (کہ خرچ وغیرہ کا انتظام نہ ہوسکے یا بلا شوہر کے رہنے میں مبتلائے معصیت ہونے کا شدید خطرہ ہو) یہ گنجائش ہے کہ صورتِ ذیل اختیار کرکے مفقود کے نکاح سے رہائی حاصل کرے، وہ صورت یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ مسلمان جج کی عدالت میں پیش کرے اور شہادتِ شرعیہ کے ذریعہ ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاں شخص کے ساتھ ہوا تھا، اس کے بعد گواہوں سے اس کا مفقود اور لا پتہ ہونا ثابت کرے، اس کے بعد جج خود اپنے طور پر مفقود کی تفتیش و تلاش کرے، جہاں جہاں مفقود کے جانے کا غالب گمان ہو وہاں آدمی بھیجا جائے اور جس جس جگہ جانے کا غالب گمان نہ ہو وہاں اگر خط کو کافی سمجھے تو خطوط بھیجے اور اگر اخبارات میں شائع کردینے سے خبر ملنے کی امید ہو تو یہ بھی کرے، الغرض تفتیش و تلاش میں پوری کوشش اور جہدِ بلیغ کرے، اور جب تلاش کے بعد مفقود کا پتہ چلنے سے مایوسی ہوجائے تو عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم کرے پھر ان چار سالوں کے اندر بھی مفقود کا پتہ نہ چلے تو عورت حاکم کے پاس دوبارہ درخواست کردے جس پر حاکم اس کے شوہر کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنادے۔ اس کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔اور اگر عورت عدالت میں زنا میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ ظاہر کرے اور اس نے ایک عرصہ دراز تک مفقود کا انتظار کرنے کے بعد مجبور ہوکر اس حالت میں درخواست دی ہو جبکہ وہ صبر سے عاجز آگئی ہو تو اس صورت میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ ایک سال کےانتظار کےبعدتفریق کردی جائے اوراس صورت میں یہ تفریق طلاقِ بائن کہلائےگی۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں بھی سائل کی بھانجی کو چاہیئے کہ اولاً تو اپنے خاوند کی بخیریت واپسی کا انتظار کرے، البتہ اگر انتظار کرنا مشکل ہو تو مندرجہ بالا قانونی عمل کے ذریعے اپنا نکاح فسخ کرائے۔ البتہ یہ بات واضح ہو کہ حاکم (قاضی)کے پاس جانے سے قبل جو وقت گزار دیا اس کا اعتبار نہ ہوگا، نیز عورت حاکم کے فیصلہ کے بغیر خود بخود سابق شوہر کے نکاح سے علیحدہ نہیں ہوسکتی اور حاکم کے پاس جب درخواست دے تو حاکم پوری تحقیق کرے اور خود بھی تلاش کرے، اس کے انتظار کی مہلت دے پھر مہلت کی مدّت ختم ہوجانے پر مذکورہ بالا طریقہ اختیار کرے۔
کما فی إعلاء السنن: و مذھب الحنفیۃ فی الباب، و إن کان قویا روایۃ و درایۃ، و لکن المتأخرین منا قد أجازوا الإفتاء بمذھب مالک عند الضرورۃ نظرا إلی فساد الزمان إلخ۔ ( کتاب المفقود، باب امرأۃ المفقود حتی یأتیھا البیان، ج 13، ص 67، ط: ادارۃ القرآن )۔
و فی جامع الرموز: قال مالک و الأوزاعی: إلی أربع سنین، فینکح عرسہ بعدھا کما فی النظم، فلو أفتی بہ موضع الضرورۃ، ینبغی أن لا بأس بہ علی ما أظن إلخ۔ ( کتاب المفقود، ج 3، ص 390، ط: سعید )۔
و فی فتح القدیر: و تکون الفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ عند أبی حنیفۃ ومحمد لأن فعل القاضی انتسب إلیہ کما فی العنین إلخ۔ ( باب اللعان، ج 4، ص 119، ط: رشیدیۃ )۔
و فی الھدایۃ: و لا یفرق بینہ و بین امرأتہ و قال مالک رحمۃ اللہ علیہ إذا مضی أربع سنین یفرق القاضی بینہ و بین امرأتہ و تعتد عدۃ الوفاة ثم تزوج من شاءت لأن عمر رضی اللہ عنہ ھکذا قضٰی إلخ کتاب المفقود، ج 2، ص622، ط: شرکت علمیۃ )۔
و فی الدر المختار: انّہ إنما یحکم بموتہ بقضاء لأنہ أمر محتمل فما لم ینضم إلیہ القضاء لا یکون حجّۃ إلخ۔ ( کتاب الآبق، ج 4، ص 297، ط: سعید )۔