کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت کے بارے میں کہ سائلہ کی جس گھر میں شادی ہوئی ہے وہاں تقریباً جوائنٹ فیملی سسٹم ہے، گھر میں سسر کی آمدنی سے اخرجات پورے ہوتے ہیں۔ میرے سسر MDA (multan development authority) میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر رہ چکے ہیں اور اب ریٹائر ہیں اور پنشن لے رہے ہیں۔ مگر اپنی نوکری کے دوران انھوں نے رشوتیں بھی لی ہیں اور ناجائز پلاٹ بھی بنائے ہیں۔ انھی میں سے ایک پلاٹ پر انھوں نے میرے شوہر کو گھر بنا کر دے رکھا ہے، جہاں ہم اکثر قیام کرتے ہیں۔
سائلہ خود عالمہ ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر بھی ہے اور لاہور میں نوکری کر رہی ہے۔ مگر جب چھٹیوں میں ملتان آنا ہوتا ہے تو گھر میں سسر کی آمدنی ہی استعمال ہوتی ہے جو مشتبہ ہے (انھوں نے اپنی نوکری کے زمانے سے ہی بہت سا مال جمع کر رکھا ہے، اب یہ علم نہیں کہ وہ گھر میں جمع شدہ مال میں سے لگاتے ہیں یا پنشن میں سے)۔۔۔ایسی صورت میں سائلہ کے لیے کیا حکم ہے جب کہ اس مشتبہ مال سے بچنے کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔۔۔جب شوہر سے بات چیت کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ جھگڑنے لگتا ہے کہ اس کے نزدیک والد کا سب عمل درست ہے۔
کیا میں اپنے سسر کی آمدنی سے استعمال کرسکتی ہوں
صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کے سسر کا مال حرام و حلال سے مخلوط ہو ،اور اس پلاٹ کا متعین طور پر حرام مال سے بنا ہوا ہونا یقینی طور پر معلوم نہ ہو ،تو بامر مجبوری سائلہ کا اس گھر میں رہنے کی گنجائش ہے جبکہ سائلہ اگر مشترکہ فیملی سسٹم میں رہتی ہو ، جس میں کھانا پینا اسی مشتبہ مال سے مہیا کیا جاتا ہو ،اور اس مشترکہ مشتبہ مال سے نہ کھانے کی صورت میں سائلہ کے گھر میں انتشار کا اندیشہ ہو ،تو اسے چاہئے کہ وہ اس کھانے میں سے کھائے پیئے ، اس نیت سے کہ وہ اندازا اس کھانے پینے کے بقدرمال صدقہ کرے گی ،اور بعد میں تخمینہ لگاکر اس قدر مال صدقہ کردے۔
وفی الھندیۃ:أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس کما فی الھندیۃ (الباب الثانی عشر فی الھدایا،ج:5،ص:342،ناشر:ماجدیہ)
وفی رد المحتار: وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما والأحسن ديانة التنزه عنهالى قوله وفي الخانية امرأة زوجها في أرض الجور إن أكلت من طعامه ولم يكن عين ذلك الطعام غصبا فهي في سعة من أكله وكذا لو اشترى طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من تناوله الإثم على الزوج ا هـ (مطلب فيمن ورث مالا حراما،ج :٥، ص:٩٩،ناشر ايچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ:آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها كذا في الملتقط(ج:5،ص:343،ناشر:ماجدیہ)
وفي شرح المجلة: المادة ٢١-(الضرورات تبيح المحضورات )هذه قاعدة اصولية ماخوذة من النص وهو قوله تعالى (الا مااضطررتم اليه) يعني ان الممنوع شرعا يباح عند الضرورة (ج:١،ص : ٥١ ،ناشر :دار الكتب العلميه)