السلام علیکم !
میں پہلی بیوی ہوں، میرے شوہر نے چھپ کر دوسرا نکاح کیاجس سے نکاح کیا اس نے بھی گھر والوں سے چھپ کر نکاح کیا،اب جب نکاح پہلی بیوی کے سامنے آیا ہے تواس نے اپنے شوہر پر دباؤ ڈالا کہ یا تو دوسری بیوی کے ساتھ نبھا لو یا طلاق دے دو، جس پر شوہر نے ڈپریشن سے بچنےکے لیے طلاق لکھ دی جس کے الفاظ یہ ہیں :کہ میں(فلانہ)کو ہوش حواس میں تین طلاق دیتا ہوں ۔
جب کہ دوسری بیوی موجود نہیں تھی۔ کیا ایسے میں طلاق واقع ہو جائے گی ؟ مفتی صاحب سے فتویٰ لیا ہے ان کا کہنا ہے طلاق واقع ہو گئی ہے،جب دوسری بیوی کو یہ بتایا گیا ہے تو ان کا کہنا ہے میں نہیں مانتی قرآن میں اس طرح طلاق نہیں ہوتی اور رو رو کر کہتی ہے کہ سب اپنے اپنے فر قے ہے سب الگ الگ بات کرتے ہیں، پر قرآن میں ایسا نہیں لکھا کہ ہو گئی ہے ایسے میں کیا کرنا چاہیے کیا دونوں ایک رشتے میں رہ سکتے ہیں اور شوہر بھی کشمکش میں ہیں کہ کیا کرے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں لے پا رہے کہ کہیں دل آ زاری نہ ہو جائے ۔
برائے کرم اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں کہ شریعت میں کیا حکم ہے اور صحیح رائے تجویز کریں اور اگر یہ کسی اور مسلک کا فتویٰ لیں تو کیا حکم ہے؟(فقہ حنفی)۔
واضح ہوکہ جس طرح زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے،اسی طرح تحریری طور پر بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہےاور وقوع طلاق کے لئے بیوی کا الفاظ طلاق سننا یا اس وقت مجلس میں موجود ہونا شرعاً ضروری نہیں ، بلکہ بیوی کی عدمِ موجودگی میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے اپنی دوسری بیوی کومذکور الفاظ" میں فلاں کو ہوش حواس میں تین طلاق دیتا ہوں " کے ذریعہ صریح الفاظ سے تین طلاقیں لکھ کر دی ہوں تو اس سے اس کی دوسری بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیردوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، بلکہ میاں بیوی پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والا تعلقات ہر گز قائم نہ کریں وگرنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے،جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما قال اللہ تعالی : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرہ :230)۔
و فی صحیح البخاری: عن عائشۃ رضی اللہ عنھا: أن رجلاً طلق إمرأتہ ثلاثاً، فتزوجت فطلق، فسئل النبی صلی اللہ علیہ و سلم: أ تحل للأول؟ قال: "لا، حتی یذوق عسیلتھا کما ذاق الأول" ( باب من أجاز الطلاق الثلاث، ج: 3، ص: 2392، ط: البشری)۔
و فی المصنف لإبن أبی شیبۃ: عن الحسن و خلاس: فی الرجل یطلق امرأتہ و ھو غائب عنھا، قالا: تعتد من یوم یأتیھا الخبر ( کتاب الطلاق، ج: 10، ص: 133، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الإسلامیۃ )۔
و فی رد المحتار: و لا یلزم کون الإضافۃ صریحۃ فی کلامہ لما فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت فقال امرأتی طلقت امرأتہ الخ ( کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 248، ط: سعید)۔
کما فی البدائع: و کذا التکلم بالطلاق لیس بشرط فیقع الطلاق بالکتابۃ المستبینۃ و بالاشارۃ المفھومۃ من الاخرس لأن الکتابۃ المستبینۃ تقوم مقام اللفظ الخ ( فصل فی شرائط الرکن، ج: 3، ص: 100، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.الخ( مطلب فی الطلاق بالکتابۃ، ج: 3، ص: 246، ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: و إن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ الخ (کتاب الطلاق، ج: 1، ص: 473، ط: ماجدیۃ )۔