مکروہات

تعویذ کو جلانے،پانی میں ڈال کر غسل کرنے وغیرہ کا حکم

فتوی نمبر :
84727
| تاریخ :
2025-07-29
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مکروہات

تعویذ کو جلانے،پانی میں ڈال کر غسل کرنے وغیرہ کا حکم

میرے اوپر جادو کیا گیا ہے، اس کے علاج کے لیے میں نے ایک صاحب سے رجوع کیا ہے۔ اس علاج میں تعویذ کو جلانا، تعویذ کو تکیہ میں رکھنا، تعویذ سے غسل کرنا، تعویذ کو جسم پر باندھ کر لگانا اور پھر جلانا شامل ہے۔ اور اس دوران شوہر کے قریب نہ جانا بھی کہا گیا ہے۔ تو کیا یہ علاج اسلام اور شریعت کے مطابق جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نظرِ بد ، جادو وغیرہ سے انسانی زندگی کا متاثر ہونا نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہے ۔ اگرکسی مسلمان پر ان چیزوں میں سے کسی کے اثرات ظاہر ہوں تو اس کا علاج کرانا جائز ہے، تاہم علاج کے لیے کسی ایسے شخص کا انتخاب کرنا چاہیے جو واقعۃً اصولِ شرعیہ کی پاسداری کے ساتھ علاج کرنا جانتا ہوں ، اور کسی قسم کے شرکیہ و کفریہ کلمات پر مشتمل تعویزات کو اپنے علاج و معالجہ کا حصہ نہ بناتاہو ، اگر مذکور بیماری میں کوئی مبتلاء ہو تو ا س کے لیے اس قسم کے شخص سے علاج اور اس کے تجویز کردہ طریقۂ علاج پر عمل کرنے کی گنجائش ہے ۔ البتہ اس معاملے میں حتیٰ الامکان ایسا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے کہ جس سے ان مقدس کلمات کی بےحرمتی لازم نہ آئے مثلاً غسل کے پانی کو کسی ٹب و غیرہ میں جمع کرکے کسی ایسی جگہ گرایا جائے جہاں ناپاک پانی اس کے ساتھ نہ ملے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبی داؤد: عن عمرو بن شعيب، عن أبيه ، عن جده «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌كان ‌يعلمهم ‌من ‌الفزع كلمات: أعوذ بكلمات الله التامة من غضبه، وشر عباده، ومن همزات الشياطين وأن يحضرون وكان عبد الله بن عمرو يعلمهن من عقل من بنيه، ومن لم يعقل كتبه فأعلقه عليه» ( باب کیف الرقی، ج:4،ص: 18، ناشر:المطبعۃ الأنصاریۃ دھلی )-
و فی صحیح البخاری: عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه: أن ناسا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أتوا على حي من أحياء العرب فلم يقروهم، فبينما هم كذلك، إذ ‌لدغ ‌سيد أولئك، فقالوا: هل معكم من دواء أو راق؟ فقالوا: إنكم لم تقرونا، ولا نفعل حتى تجعلوا لنا جعلا، فجعلوا لهم قطيعا من الشاء، فجعل يقرأ بأم القرآن، ويجمع بزاقه ويتفل، فبرأ فأتوا بالشاء، فقالوا: لا نأخذه حتى نسأل النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه فضحك وقال: (وما أدراك أنها رقية، خذوها واضربوا لي بسهم)اھ ( باب الرقی بالفاتحۃ، ج:5، ص: 2166، ناشر: دار ابن کثیر )-
و فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح: وكان النبي صلى الله عليه وسلم يأخذ من ريق نفسه، على إصبعه السبابة، ثم يضعها على التراب، فيعلق بها منه، فيمسح بها على الموضع الجريح والعليل، ويتلفظ بهذه الكلمات في حال المسح. قال الأشرف: هذا يدل ‌على ‌جواز ‌الرقية ما لم تشتمل على شيء من المحرمات كالسحر. وكلمة الكفر اهـ. ومن المحذور أن تشتمل على كلام غير عربي أو عربي لا يفهم معناه، ولم يرد من طريق صحيح، فإنه يحرم كما صرح به جماعة من أئمة المذاهب الأربعة اھ ( باب عیادۃ المریض و ثواب المرض، ج: 3، ص: 1125، ناشر: دار الفکر )-
و فی حاشیۃ ابن عابدین: (قوله التميمة المكروهة) أقول: الذي رأيته في المجتبى التميمة المكروهة ما كان بغير القرآن، وقيل: هي الخرزة التي تعلقها الجاهلية اهـ فلتراجع نسخة أخرى. وفي المغرب وبعضهم يتوهم أن المعاذات هي التمائم وليس كذلك إنما التميمة الخرزة، ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث في عوذته قالوا: إنما ‌تكره ‌العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ قال الزيلعي: ثم الرتيمة قد تشتبه بالتميمة على بعض الناس: وهي خيط كان يربط في العنق أو في اليد في الجاهلية لدفع المضرة عن أنفسهم على زعمهم، وهو منهي عنه وذكر في حدود الإيمان أنه كفر اهـ. وفي الشلبي عن ابن الأثير: التمائم جمع تميمة وهي خرزات كانت العرب تعلقها على أولادهم يتقون بها العين في زعمهم، فأبطلها الإسلام اھ ( فصل فی اللبس، ج:6، ص363، ناشر: سعید )-
و فی البحر الرائق: وفي شرح المنار للسيد نكركار الحق هو الشيء الموجود من كل وجه، ولا ريب في وجوده، ومنه قوله عليه السلام «‌السحر ‌حق، والعين حق اھ ( باب الحقوق، ج:6، ص: 148، ناشر:دار الکتاب الاسلامی )-
و فی حاشیۃ ابن عابدین: وفي المجتبى: اختلف في الاستشفاء بالقرآن بأن يقرأ على المريض أو الملدوغ الفاتحة، أو يكتب في ورق ويعلق عليه أو في طست ويغسل ويسقى. وعن «النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يعوذ نفسه» قال رضي الله عنه: وعلى الجواز ‌عمل ‌الناس ‌اليوم، وبه وردت الآثار ولا بأس بأن يشد الجنب والحائض التعاويذ على العضد إذا كانت ملفوفة اهـ ( فصل فی النظر و المس، ج:6، ص:364، ناشر: سعید )-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84727کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا رات کو ںاخن کاٹے جاسکتے ہیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • کھڑے ہوکر وضو اور پیشاب کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • مرد کے لئے اپنے سینے کے بال کاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • اجرت پرھوم ورک اوراسائنمنٹ تیارکرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 2
  • سینے سے بال صاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • کیا ذی الحجہ کے دس دنوں میں بال اور ناخن کاٹنا حرام ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • مرد کا بھنویں اکھاڑنے اور اس پر پکا کلر کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • کم عمربچوں سے اشعارپڑھوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 0
  • آن لائن فوڈ ایپ کے واؤچر کا غلط استعمال

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 0
  • غیر مسلم ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنا-زیر ناف بال کاٹنا

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • کافر کا جوٹھا استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • بینک ملازم کے لڑکے کو بیٹی کا رشتہ دینا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مونچھ مونڈھنا-زیرِ ناف صفائی کے لۓ کریم - پاؤڈر کا استعمال

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • چیس گیم کھیلنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • پیچ شدہ موبائل خریدنے اور خود موبائل پیچ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • میاں بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاء مخصوصہ کو چومنے اورچاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • ملک کے موجودہ حالات کی وجہ سے ہجرت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • پینے کیلئے رکھے ہوئے پانی سے ہاتھ دھونا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مشغلہ اور کھیل کے طور پر شکار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • میت کے گھر میں تین دن تک کھانا کھانا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • لوگوں کے سامنے اپنی بزرگی بیان کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • عورت کا باپردہ ہو کر اپنی آواز میں, یوٹیوب وغیرہ پر ویڈیو اپلوڈ کرنا

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • مرحوم والد صاحب کی تصویریں شیئر کرتے رہنا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • پب جی گیم کھیلنے کاحکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
Related Topics متعلقه موضوعات