کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی سالی سے فون کرکے پوچھا کہ میری بیوی کہاں ہے؟ تو اس نے بتایا کہ فلاں کے گھر گئی ہوئی ہے، تو اس پر میں نے کہا کہ میری بیوی میری اجازت کے بغیر کیوں گئی ہے ؟تو جواب میں میری سالی نے کہا کہ تم کون ہوتے ہو روکنے والے ؟تو جواب میں میں نے کہا کہ میں اس کا شوہر ہوں اور مجھے روکنے کا حق حاصل ہے ۔
اس کے بعد میں نے اپنے ہم زلف سے بات کی اور طلاق ان الفاظ کے ساتھ دی کہ "ایک ،دو ،تین شرطوں سے میری بیوی طلاق "میں کل شام تک آؤں گا اور آپ لوگوں سے اپنی بیوی کے بارے میں حساب کتاب کروں گا ،میرے اس بیان پر دو گواہ ہیں جن کی موجودگی میں یہ الفاظ کہے ہیں اس کے بعد حسب وعدہ اگلے دن شام تک میں پہنچ گیا اور سسرال والوں سے اس بارے میں بات چیت کی اور بات جھگڑے تک پہنچ گئی جو تاحال چل رہی ہے اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں سائل نے اپنے ہم زلف سے بات کرتے ہوئے اپنی بیوی کے متعلق جب مذکور الفاظ " ایک ،دو ،تین شرطوں سے میری بیوی کو طلاق " کہہ دیئے تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاق واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
قال اللہ تبارک وتعالی : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرہ : 230)
و فی الدرالمختار مع ردالمحتار:(والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين)۔۔۔۔(قوله ثلاثة متفرقة)وكذا بكلمة واحدة بالأولى (233/3 ط:دار الفكر-بيروت)
وفی الدر المختار للحصفكي:(لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ كما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول۔۔۔(حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله۔۔۔ أو خصيا،، أو مجنونا، أو ذميا لذمية (بنكاح) نافذ خرج الفاسد والموقوف (ج 3 /ص: 411 ط:دار الفكر-بيروت)
وفی الفتاوی الھندیۃ : وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية (473/1 ط:دارالفکر)۔