السلام علیکم! میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے کچھ مہینے پہلے طلاق کی ایک قسم جوڑلی تھی ایک کام کے ساتھ کہ اگر میں کچھ بُرا کام یا ویڈیو دیکھوں تو میری بیوی کو طلاق۔ میں نے پھر کچھ دن بعد وہ کام کر لیا غلطی سے۔ لیکن پھر میں نے فتویٰ لیا، انہوں نے بتایا کہ ایک طلاق ہو گئی ہے۔ اس کے بعد میں نے طلاق کے مسائل سیکھنے شروع کیے، آپ کے یہاں سے ہی کہ یہ کیسے ہوتی ہے اور کیسے نہیں ؟لیکن اب مجھے وسوسے اور وہم آ رہے ہیں کہ میرے ذہن میں مسئلے آتے ہیں کہ ایک طلاق ہوئی تھی یا پوری تین، جبکہ مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ میں نے نہ کبھی طلاق دی، نہ کبھی غصے میں کچھ کہا، اور نہ وہ طلاق کی قسم جو میں نے کھائی تھی اُس میں میری نیت طلاق دینے کی تھی، وہ بس اپنے آپ کو روکنے کے لیے کھائی تھی ۔ اب ان وسوسوں کا کیا علاج ہے؟ میں بہت پریشان ہوں۔
واضح ہو کہ طلاق کو معلق کرتےوقت اگر نیت نہ ہو، تب بھی طلاق معلق ہو جاتی ہے، لہذا اگر سائل اس ایک طلاق رجعی کے بعد رجوع کر چکا ہے تو وہ رجوع درست ہے، اور میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار ہے، تاہم آئندہ کے لیے سائل کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہے ، جبکہ طلاق کے وساوس سے بچنے کیلئے سائل کو چاہیے کہ وہ طلاق کے مسائل زیادہ پڑھنے اور اس کے متعلق سوچنے سے حتی الامکان گریز کرے، اور اگر بالفرض اس قسم کے خیالات تنگ کریں تو ان خیالات کو جھڑک کر ذکر اللہ کی کثرت کا اہتمام کرے، اور خصوصاً توبہ استغفار اور "سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم" پڑھ لیا کرے، ان شاء اللہ اس عمل سے ان وساوس سے جلد نجات ہو جائے گی ۔
کما في بدائع الصنائع: عدم الشك من الزوج في الطلاق وهو شرط الحكم بوقوع الطلاق حتى لو شك فيه، لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته؛ لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك اھ(3/ 126)
وفی الھدایۃ: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق" وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا اھ (1/ 244)
وفيها أيضا: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي" لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص "ولا يفتقر إلى النية" لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال "وكذا إذا نوى الإبانة" لأنه قصد تنجيز ما علقه الشرع بانقضاء العدة فيرد عليه اھ(1/ 225)
وفيها أيضا: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض" لقوله تعالى: {فأمسكوهن بمعروف} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك اھ(2/ 254)