میری بیوی کی رضا مندی سے میں نے دوسری شادی کی، پھر اس کے بھائیوں نے شادی کے بعد مداخلت شروع کر دی اور اپنی بہن (پہلی بیوی) کو لے گئے، اب دوسری بیوی کو طلاق دو گے تو لڑکی آئے گی، چار بچے (13 سال، 10 سال، 8 سال اور 2 سال کے) میرے پاس ہیں، اب دوسری بیوی کو طلاق دینا پڑی مجبوری میں،مگر ابھی وہ 5 تولہ سونا مانگ رہی ہیں جو میں نہیں بنا سکتا۔براہِ کرم کوئی راستہ بتا دیں، دوسری بیوی کو ایک طلاق دی ہے 20 دن پہلے۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ بعد از طلاق مطلقہ کی جانب سے پانچ تولہ سونے کا مطالبہ کس مد میں کیا جا رہا ہے؟ تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا۔ تاہم اگر نکاح کے وقت پانچ تولہ سونا بطور حق مہر مقرر کیا گیا ہو، اور شوہر نے اس کی ادائیگی نہ کی ہو، اور نہ ہی عورت نے اسے معاف کیا ہو، تو طلاق دینے کے بعد سائل کے ذمہ مذکور پانچ تولہ سونا (یا اس کی موجودہ قیمت ) کی ادائیگی شرعاً لازم ہے۔
کما فی رد المحتار: أن الدیون تقضی بأمثالھا لا أنفسھا لأن الدین وصف فی الذمة لا یمکن أداؤہ الخ(فصل فی مسائل متفرقة، ج 6، ص 525، ط: سعید)۔
وفي الفتاویٰ الهندية: والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين سواء کان مسمی أو مھر المثل حتی لا یسقط منه شئی بعد ذلک إلا بالإبراء من صاحب الحق کذا فی البدائع الخ(الفصل الثانی فیما یتأکد به المھر والمتعة، ج 1، ص 303، ط: ماجدیة)۔
وفیھا أیضاً: (ثم الأصل) فی التسمیة أنھا إذا صحت وتقررت یجب المسمی ثم ینظر ان کان المسمی عشرۃ فصاعداً فلیس لھا إلا ذلک وان کان دون العشرۃ یکمل عشرۃ عند أصحابنا الثلاثة وإذا فسدت التسمیة أو تزلزلت یجب مھر المثل الخ(الباب السابع فی المھر، ج 1، ص 303، ط: ماجدیة)۔