ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا " تیرا پیسہ اور جسم آئندہ مجھ پرحرام ہے" طلاق ہو گئی؟ اگر ایک طلاق ہوئی تو دوبارہ بیوی کیسے حلال ہوگی؟ اس شخص نے یہ بات بیوی سے علیحدگی میں کہی تھی،اب وہ ایسا طریقہ چاہتا ہے کہ بیوی حلال ہو، مگر بات صیغہ راز رہے۔
واضح ہو کہ ”تیرا جسم مجھ پر حرام ہے“ کے الفاظ عرف میں طلاق صریحِ بائن کےلیے مستعمل ہیں، جن سے بغیر نیت کے بھی طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے،جس کاحکم یہ ہے کہ ان الفاظ کی ادائیگی کے فورابعدمیاں بیوی کانکاح ختم ہوجاتاہےاوررجوع کی بھی گنجائش نہیں ہوتی، بلکہ باہمی رضامندی سے ازسرنوتجدیدنکاح ضروری ہوتاہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں شخص مذکورکی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے، اب اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ازدواجی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہوں تو دورانِ عدت یا اس کے بعد باہمی رضامندی سے از سرنو حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ با قاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا لازم ہے، تاہم اس تجدیدِ نکاح کےبعد مذکورشخص کے پاس آئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا۔اس لیے طلاق کے معاملے خوب احتیاط لازم ہے۔
جہاں تک پیسہ کا تعلق ہے،تو کسی بھی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دینا ’’قسم‘‘ کے مترادف ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں شوہر کا اپنی بیوی کو مذکور جملہ”تیرا پیسہ آئندہ مجھ پر حرام ہے“ کہنے سے قسم منعقد ہوگئی ، چنا نچہ شوہر اگر آئندہ کبھی اپنی بیوی کا پیسہ استعمال کرے گا تو وہ حانث ہوجائےگا،اور اس پر قسم توڑنے کا کفارہ لازم ہوگا۔
جبکہ قسم کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دے (یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم ) اور اگر ’’جَو‘‘ دے تو اس کا دو گنا (تقریباً ساڑھے تین کلو) دےیا دس فقیروں کو ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے، اور اگر کوئی قسم اٹھانے والا غریب ہے کہ نہ تو کھانا کھلا سکتا ہے اور نہ کپڑا دے سکتا ہے ،تو مسلسل تین روزے رکھے۔
کمافی الدر المختار: ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمنی، والحرام يلزمنی، وعلی الطلاق، وعلی الحرام فيقع بلا نية للعرف الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله: فيقع بلا نية للعرف) أی فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع فی لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر الخ ( کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج 3، ص 252، ط: ایچ ایم سعید )-
وفی الشامیة: قال ح: ولا يرد أنت علي حرام على المفتى به من عدم توقفه على النية مع أنه لا يلحق البائن، ولا يلحق البائن لكونه بائنا لما أن عدم توقفه على النية أمر عرض له لا بحسب أصل وضعه اهـ (کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج3،ص306،ط:ایچ ایم سعید)-
وفی الھدایة: " وإذا أضاف الطلاق إلى جملتها أو إلى ما يعبر به عن الجملة وقع الطلاق لأنه أضيف إلى محله، وذلك مثل أن يقول أنت طالق لأن التاء ضمير المرأة، أو يقول: رقبتك طالق أو عنقك طالق أو رأسك طالق أو روحك أو بدنك أو جسدك أو فرجك أو وجهك،لأنه يعبر بها عن جميع البدن أما الجسد والبدن فظاهر الخ ( کتاب الطلاق، باب ایقاع الطلاق، مدخل، ج 1، ص 226، ط: دار إحیاء التراث العربی )-
وفیھا ایضاً: وإذا کانت الطلاق بائناً دون الثلاث فله أن یتزوجھا فی العدّۃ و بعد إنقضائھا الخ ( فصل فیما تحل به المطلقة ج 2 ص 92 ط: مکتبة انعامیة)-
وفی البدائع: وأما إن كان أحدهما حرا، والآخر مملوكا فإن كانا حرين فالحكم الأصلی لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق الخ ( کتاب الطلاق، فصل فی حكم الطلاق البائن، ج 3، ص 187، ط: ایچ ایم سعید )-
وفی الدر المختار: (ومن حرم) أي على نفسه (إلی قوله ) (شيئا) ولو حراما أو ملك غيره كقوله الخمر أو مال فلان علي حرام فيمين ما لم يرد الإخبار خانية (ثم فعله) بأكل أو نفقة، ولو تصدق أو وهب لم يحنث بحكم العرف زيلعي (كفر) ليمينه، لما تقرر أن تحريم الحلال يمين الخ (کتاب الأیمان،ج3،ص729-730،ط:ایچ ایم سعید)-
وفیه ایضاً: (وكفارته) هذه إضافة للشرط لأن السبب عندنا الحنث (تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين) كما مر في الظهار (أو كسوتهم بما) يصلح للأوساط وينتفع به فوق ثلاثة أشهر، و (يستر عامة البدن) فلم يجز السراويل إلا باعتبار قيمة الإطعام، (إلی قولہ) (وإن عجز عنها) كلها (وقت الأداء) عندنا،(إلی قولہ) (صام ثلاثة أيام ولاء) ويبطل بالحيض، بخلاف كفارة الفطر. وجوز الشافعي التفريق، واعتبر العجز عند الحنث مسكين (والشرط استمرار العجز إلى الفراغ من الصوم، فلو صام المعسر يومين ثم)الخ (کتاب الأیمان،ج3،ص725-727،ط:ایچ ایم سعید)-