شوہر کا بیان: مفتی صاحب! السلام علیکم!مفتی صاحب میرا میری بیوی کے ساتھ کافی جھگڑا ہوا،میری بیوی باہر صفائی کر رہی تھی، اور میں کمرے کے اندر تھا، اور دروازہ بند تھا،میری بیوی تقریباً 35 فیٹ دور تھی، اور مسلسل بول رہی تھی، اور تنگ آ کر میں نے اس کو کہا کہ میں تجھے طلاق دے دوں گا تو چپ کر جا،میں نے اس کو کافی بار کہا کہ چپ کر جا میں تجھے طلاق دے دوں گا، میں نے اس کو کہا کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ چپ ہو جا میں تجھے طلاق دے دوں گا،میری بیوی کا کہنا ہے کہ اس سے طلاق ہو جاتی ہے،میں نے ان کے گھر والوں کے سامنے کئی بار قرآن ہاتھ میں پکڑ کر حلف اٹھایا کہ میں نے طلاق نہیں دی، میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ چپ کر جا میں طلاق دے دوں گا، مفتی صاحب ہماری رہنمائی فرمائیں۔
بیوی کا بیان:السلام علیکم !مفتی صاحب میرا اور میرے شوہر کا کافی جھگڑا ہوا، جس پر میں بول رہی تھی، میرا شوہر کمرے میں تھا، اور میں باہر تھی، اور کمرے کا دروازہ بھی بند تھا، جس پر صرف میں نے طلاق کا لفظ سنا، یہ بھی نہیں سنا کہ دے دوں گا، یا ہے ،ایسا کچھ نہیں سنا، کیونکہ دوری زیادہ تھی، اور کمرے کا دروازہ بند تھا ،تو مفتی صاحب رہنمائی فرمائیں ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
مفتی غیب نہیں جانتا، بلکہ وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ اور جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس تمہید کے بعد واضح ہو کہ وقوع طلاق کے لئے ماضی یا حال کا صیغہ ہونا ضروری ہے، مستقبل کے صیغے کے ساتھ طلاق دینے کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں لڑائی جھگڑے کے دوران اگر شوہر نے واقعۃً مذکور الفاظ ”میں طلاق دے دوں گا“ استعمال کیے ہوں، اور اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، اور نہ ہی عورت اس کے خلاف الفاظ جیسے تجھے طلاق وغیرہ سننے کا دعوی کر رہی ہو، بلکہ اسے فقط لفظ ”طلاق“ سننا یاد ہو، اور طلاق دیے جانے کا یقین نہ ہو، تو چونکہ مذکور جملوں سے مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی ہے، اس لئے ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا ان کا میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا بھی درست ہوگا، البتہ آئندہ کے لئے شوہر کو اس طرح کی بے احتیاطی سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: وفی المحیط لو قال بالعربیۃ أطلق لا یکون طلاقا إلا إذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقا الخ(الفصل السابع فی الطلاق الخ ج 1، ص 384، ط: ماجدیۃ)۔
وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ: صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام الخ(کتاب الطلاق،ج 1،ص 38،ط: حقانیۃ)۔