وضو

سر پر مصنوعی الکوحل ملی ہوئی دوا ملانے سے غسل لازم ہوگا؟

فتوی نمبر :
83863
| تاریخ :
2025-07-01
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

سر پر مصنوعی الکوحل ملی ہوئی دوا ملانے سے غسل لازم ہوگا؟

میں ایک مرد ہوں اور میرے بال جھڑ رہے ہیں یا پتلے ہو رہے ہیں۔ اس کے علاج کے لیے میں ایک دوا استعمال کر رہا ہوں جس کا نام مینوکسڈیل (Minoxidil) ہے۔ یہ دوا مائع (لیکویڈ) شکل میں ہے،اس دوا میں الکحل شامل ہے — خاص طور پر ایتھانول (Ethanol)، جو عام طور پر یا تو قدرتی شکر (جیسے مکئی یا گنے) کی خمیر شدہ شکل سے حاصل کیا جاتا ہے، یا پھر پٹرولیم سے تیار کیے گئے مرکب جیسے ایتھائلین (ethylene) سے مصنوعی طریقے سے بنایا جاتا ہے،اس محلول میں ایک اور جزو پروپیلین گلیکول (Propylene Glycol) بھی شامل ہوتا ہے، جو ایک مصنوعی کیمیائی مرکب ہے اور عام طور پر پروپیلین آکسائیڈ (propylene oxide) سے تیار کیا جاتا ہے، جو پٹرولیم سے حاصل کیا جاتا ہے۔ پروپیلین گلیکول کا کام مائع میں دوا کو حل کرنا اور اسے جلد میں جذب ہونے میں مدد دینا ہے۔ یہ اگرچہ "گلیکول" کہلاتا ہے، مگر شرعی یا نشہ آور الکحل میں شمار نہیں ہوتا۔تیسرا جزو صاف پانی (Purified Water) ہوتا ہے۔ ان اجزاء میں سے کوئی بھی الکحل کو چھپانے یا حلال ظاہر کرنے کے لیے شامل نہیں کیا گیا۔میرا سوال یہ ہے کہ ایسی دوا لگانے کے بعد، کیا مجھے غسل فرض ہوگا یا صرف وضو کافی ہے ،تاکہ میں نماز ادا کر سکوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسئولہ صورت میں مذکور دوا لگانے کی وجہ سے سائل پر غسل فرض نہ ہوگا، بلکہ نماز کی ادائیگی کے لئے وضو کرلینا بھی شرعا کافی ہے،تاہم دوا میں اگر بو وغیرہ ہو تو نمازسے قبل اسے صاف کرلیاجائے ، تاکہ دیگر نمازیوں کو تکلیف نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تکملۃ فتح الملہم: وبھذا تبین حکم الکحول المسکرۃ التی عمت بھا البلولی الیوم فانھا تستعمل فی کثیر من الاودیۃ والعطور، والمرکبات الاخری فانھا ان اتخذت من العنب والتمر فلا سبیل الی حلتھا او طھارتھا وان اتخذت من غیرھا فالامر فیھا سھل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله
و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع الخ ( کتاب الاشربۃ، حکم الکحول المسکرۃ،ج 3،ص 608،ط: دار لعلوم کراچی)۔
وفی الدر: وأكل نحو ثوم، ويمنع منه الخ
وفی الدر تحت (قولہ: وأكل نحو ثوم) أي كبصل ونحوه مما له رائحة كريهة للحديث الصحيح في النهي عن قربان آكل الثوم والبصل المسجد. قال الإمام العيني في شرحه على صحيح البخاري قلت: علة النهي أذى الملائكة وأذى المسلمين(الی قولہ) و يلحق بما نص عليه في الحديث كل ما له رائحة كريهة مأكولا أو غيره الخ(کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا،فروع افضل المساجد،ج1،ص661،ط: ایچ ایم سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83863کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات