جناب مفتی صاحب!
آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہم چار بھائی محمد اقبال ، معین الدین ، وکیل احمد اور زین العابدین ولد برکت الله سیکٹر e ۷۱ پلاٹ نمبر 2۳۴ اورنگی ٹاؤن کراچی میں رہائش پذیر ہیں، اور یہ مکان ہم چار بھائیوں کے نام لیز ہے ، والدہ نے اپنی زندگی میں اس مکان کا بٹوارہ کر دیا تھا، اور اس مکان میں بجلی کا بل تقریبا ۱۵ سال سے بقایا تھا، اور گیس کا بل بھی باقی تھا، اسی دوران وکیل احمد اور زین العابدین ایک دوسرے مکان میں چلے گئے، ہم سے کہنے لگے کہ بل ادا کیا جائے، سب لوگ برابر پیسہ دو، اس وقت ہم بے روزگار تھے، بل بھرنے کے قابل نہیں تھے، ہم نے کہا کہ جیسے حالات صحیح ہوں گے ، ان شاء اللہ ہم ضرور بل بھریں گے ، جب فوجی آپریشن شروع ہوا ، ہم نے جو بھی بل باقی تھا بجلی، گیس کاادا کر دیا، اور معین الدین بھائی اسی مکان میں رہتے ہیں، ہم نے کہا بھائی آپ الگ میٹر کر لو، جو بھی بل آئے برابر دیا کرو،آج تک انہوں نے کبھی بھی بجلی، گیس بل نہیں دیے ،اور برابر استعمال کرتے ہیں ، والد نے اپنی آخری وقت میں خواہش کی کہ وکیل احمد کی شادی ہماری زندگی میں ہو جائے، کوئی انتظام نہیں تھا ، ہمارے ایک رشتہ دار نے کہا کہ ہماری بہو کا زیور لے لو تو ہم نے عزت بچانے کے لئے اپنی عورت کے گھر کا زیور دے دیا جو آج تک واپس نہیں دیا اور کہنے لگا کہ مکان کا حصہ لگاؤ ،اس ۔۔۔۔۔۔۔ کرو، پھر زیور دیں گے، اور بجلی کی گیس کی بل ہم نہیں دیں گے ، ہم نے اپنے ایک رشتہ دار سے کہا کہ ہمارا زیور پیسہ دلوا دو، انہوں نے کہا کہ ہم دلوا دیں گے ،جب مکان کا حصہ ۔۔۔۔۔ کر لو گے لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ آپ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ ہمارا پیسہ بجلی کا بل کا عائد ہوتا ہے یا نہیں؟ ہم حصہ دینے کے لئے ہر وقت تیار ہیں کہ ہمارا پیسہ حصے کا اور زیور دے دو۔
صورت ِمسئولہ میں سائل اور بھائیوں میں سے جس نے بھی بلوں کی ادائیگی کی ہے، اگر وہ با ہمی رضامندی اور دوسرے بھائیوں کے ذمے قرض اور واپسی کی نیت سے کی ہو تو وہ دوسروں کےذمّے قرض ہے، جس کی ادائیگی شرعا لازم ہے، اسی طرح مسمیٰ اقبال نے وکیل احمد کی شادی کے موقع پر اپنی بیوی کسی دوسرے سے مستعار لیکر جو زیور بطور قرض دیا ہے ، اس کی صراحت بھی کردی تھی تو یہ صرف وکیل احمد پر قرض ہے، جس کی ادائیگی وکیل احمد پر لازم ہے۔ اور عدم واپسی کی صورت میں عدالتی چارہ جوئی بھی کی جاسکتی ہے،اور اگر مذکور زیور دینا اور بلوں کی ادائیگی محض بھائی بندی یا والد کے ساتھ تعاون کے طور پر کی گئی ہو تو پھر یہ تبرع اور احسان ہے، تاہم اگر دوسرے بھائی اسے اپنی طرف سے کچھ نہ کچھ دے دیں ،تویہ بہتر ہے، اور ایسا ہی کرنا چاہئیے۔ اس کے بعد مذکور مکان کی باہمی رضا مندی سے تقسیم کر دیں۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0