کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں مسماۃ حفصہ نواز کا نکاح عبد الہادی کے ساتھ ایک سا ل قبل ہوا تھا ، تقریباً ایک ماہ قبل ہم میاں بیوی کے درمیان طلاق کا ایک واقعہ پیش آیا ، جس کے متعلق میرا حلفیہ بیان یہ ہے کہ : میں مسماۃ حفصہ نواز حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ میں جو کچھ کہہ رہی ہوں وہ سچ ہے ، اور اگر میں نے جھوٹ بولا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا ، میرے شوہر نے تقریباً ایک ماہ قبل گھریلو مسائل کی وجہ سے مجھے تین بار یہ جملہ کہا : ” میں طلاق دیتا ہوں ، میں طلاق دیتاہوں ، میں طلاق دیتا ہوں “
جبکہ لڑکے کا مؤقف معلوم کرنے کے لیے دار الافتاء سے رابطہ کیا گیا، طلاق کا اقرار ، یا انکار کرنے کے بجائے غیر متعلقہ باتیں کررہا تھا ، اسی طرح لڑکے کے والد سے بات ہوئی جس کا کہنا تھا کہ ہم نے یہاں پر مسئلہ معلوم کیا ہے ، طلاق نہیں ہوئی ہے آپ لڑکی کو بھیج دو۔
واضح ہوکہ مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سائل/سائلہ پر ہی عائد ہوتی ہے ۔ لہذا اگر سائلہ( مسماۃ حفصہ ) کا مذکور بیانِ حلفی درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی خلاف ِحقیقت بیان بازی سے کام نہ لیا گیا ہو، اور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے تین بار سائلہ کو یہ جملہ ” میں طلاق دیتا ہوں ، میں طلاق دیتاہوں ، میں طلاق دیتا ہوں “ کہہ دیا ہو ، اور سائلہ کے پاس اپنے بیان پر شرعی گواہان بھی موجود ہوں جو اس کے بیان کی تائید میں حلفاً گواہی دے رہے ہوں، تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ہے ، اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتاہے، جبکہ سائلہ عدت گزارنےکے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
تاہم اگر سائلہ کا شوہر طلاق کے مذکور الفاظ کہہ دینے سے منکر ہو، اور یہ مسئلہ قاضی کی عدالت میں چلا جائے تو ”المرأۃ کالقاضی“کے اصول کے مطابق سائلہ کے پاس شرعی گواہان نہ ہونےیا قاضی کو گواہوں پر عدمِ اطمینان کی صورت میں قاضی شوہر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے سائلہ کو اس کے پاس لوٹانے کا حکم جاری کرسکتا ہے ، اس صورت میں سائلہ کے شوہر کے پاس لوٹ جانے سے اگرچہ وہ گناہ گار نہ ہوگی، لیکن جب سائلہ کو اپنے کانوں سے تین دفعہ طلاق سننا یاد ہو تو اسے شوہر کوخود پر قدرت دینے کے بجائے طلاق بالمال ، خلع ، یا کسی بھی طریقے سے اس سے خلاصی کی ہر ممکن کوشش کرنا لازم ہوگا ۔
کما قال اللہ تعالی : فإن طلقھا فلا تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ ( البقرۃ : 230 )-
و فی الھندیۃ : و إن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ إلخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج1 ، ص 473، ط ماجدیۃ )-
وفی الدر المختار : و المرأۃ کالقاضی إذا سمعتہ أو أخبرھا عدل لا یحل لھا تمکینہ، و الفتویٰ علی أنھا لیس لھا قتلہ ، و لا تقتل نفسھا بل تفدی نفسھا بمال أو تھرب کما أنہ لیس لہ قتلھا إذا حرمت علیہ و کلما ھرب ردتہ بالسحر، و فی البزازیۃ عن الأوزجندی أنھا ترفع الأمر للقاضی فإن حلف و لا بینۃ لھا فالإثم علیہ إلخ ( کتاب الطلاق، باب الصریح، ج 3، ص 251، ط سعید )-