کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکے نے نکاح کیا اور مہر پانچ تولہ سونا مقرر ہوا۔ لیکن اب وہ اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہے۔ مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ وہ پانچ تولہ سونے کی رقم دے رہا ہے، تو کیا وہ موجودہ رقم دے گا یا جس وقت نکاح ہوا تھا اس وقت کی سونے کی قیمت کے مطابق رقم دے گا؟ وضاحت فرمائیں
نوٹ: لڑکے کے نکاح کے بعد رخصتی کا عمل بھی ہوا ہے۔
صورتِ مسؤلہ میں نکاح کے بعد اگر دونوں کے درمیان خلوت صحیحہ ہوچکی ہو، تو ایسی صورت میں طلاق کے نتیجہ میں طے شدہ پورا حقِ مہر ( پانچ تولہ سونا ) یا آج کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے اس کی قیمت لازم ہوگی۔
کما فی بدائع الصنائع: و لا یجوز دفع غیرہ من غیر رضاہ، فکان مستقر مھرا بنفسہ فی ذمتہ، فتعتبر قیمتہ یوم الاستقرار و ھو یوم العقد فأما الثوب و إن وصف فلم یتقرر مھرا الذمۃ بنفسہ، بل الزوج مخیر فی تسلیمہ و تسلیم قیمتہ فی إحدی الروایتین علی ما نذکر إن شاء اللہ، و إنما یتقرر مھرا بالتسلیم فتعتبر قیمتہ یوم التسلیم إلخ۔ ( کتاب النکاح، فصل فی بیان أدنی المھر، ج 2، ص 277، ط: سعید )۔
و فی الدر المختار: و لو دینا أو عرضا قیمتہ عشرۃ وقت العقد، أما فی ضمانھا بطلاق قبل الوطء فیوم القبض ( إلی قولہ ) ( و نفذ تصرف المرأۃ ) قبلہ ( فی الکل لبقاء ملکھا ) و علیھا نصف قیمۃ الأصل یوم القبض إلخ۔
و فی الشامیۃ: تحت ( قولہ أما فی ضمانھا إلخ ) یعنی أما الحکم فی ضمانھا إلخ۔ و ذالک کما لو تزوجھا علی ثوب و قیمتہ عشرۃ فقبضتہ و قیمتہ عشرون، و طلقھا قبل الدخول و الثوب مستھلک ردت عشرۃ لأنہ إنما دخل فی ضمانھا بالقبض فتعتبر قیمتہ یوم القبض بحر عن المحیط۔ و الھلاک کالاستھلاک لأنھا إذا لم تؤاخذ بما زاد فی قیمتہ بعد القبض فی الاستھلاک، ففی الھلاک بالأولی، و أفاد أنہ لو قائما تعتبر قیمتہ یوم الطلاق لا یوم القبض، و أنہ لیس لہ أخذہ منھا لیعطیھا نصف قیمتہ ( إلی قولہ )( قولہ و علیھا نصف قیمۃ الأصل إلخ ) لأنہ إذا نفذ تصرفھا فقد تعذر علیھا رد النصف بعد وجوبہ فتضمن نصف قیمتہ للزوج یوم قبضت بحر۔ لأنہ بالقبض دخل فی ضمانھا إلخ۔( باب المھر، ج 3، ص 102۔105، ط: سعید)۔