السلام علیکم
میرا اور میری بیوی کا اکثر جھگڑا ہو جاتا ہے. دو دن پہلے جھگڑا ہوا اور کافی بڑھ گیا اور غصے میں میری بیوی نے میرے منہ پر تھپڑ مار دیا. میں نے اس وقت برداشت کر لیا. بعد میں میں نے اس سے کہا کہ اگر تم نے دوبارہ ایسا کیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا(ڈرانے کے لیے تاکہ اس عمل سے باز رہے). اسی بحث میں بات پھر بڑھ گئی اور میں نے اسکا منہ پکڑا تو اس نے reaction میں پھر میرے منہ پر تھپڑ مار دیا. میں نے برداشت کیا اور طلاق کے الفاظ نہیں بولے. کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو گئی ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں جھگڑے کے دوران اگر سائل نے اپنی بیوی کو واقعۃً مذکور الفاظ" اگر تم دوبارہ ایسا کیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا " کہے ہوں، اس کے علاوہ الفاظ تجھے ہوگی و غیرہ جیسے الفاظ استعمال نہ کیے ہو،تو چونکہ یہ طلاق کی دھمکی ہے، اس لئےاس سےاس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے،اس لئے دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں، ہر حال آئندہ کے لئے طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا لازم ہے۔
تاہم بیوی کا شوہر پر اس طرح ہاتھ اٹھانا قطعاً جائز نہیں اس لئے میاں بیوی دونوں کو اپنے اپنے رویے پر نظر ثانی اور ایک دوسرے کو عزت دینے کی ضرورت ہے۔
کما فی الدر المختار: بخلاف قولہ طلقی نفسک فقالت أنا طالق أو أنا اطلق نفسی لم یقع لأنہ وعد جوھرۃ الخ ( باب تفویض الطلاق، ج: 3، ص: 319، ط: سعید )۔
و فی البحر الرائق: ولیس منہ أطلقک بصیغۃ المضارع الا اذا غلب استعمالہ فی الحال الخ ( کتاب الطلاق باب الفاظ الطلاق، ج: 3، ص: 252، ط: رشیدیۃ )۔