کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین در این مسئلہ کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، جس کا فتوی آپ کے ہاں سے وصول کیا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ بیوی کو طلاق دینے سے قبل ایک مرتبہ مجھے پیسوں کی ضرورت پڑی، کیونکہ میں مکان بنا رہا تھا، میری بیوی کا سونا تھا، ہم نے پہلے سوچا کہ اس کو کسی کے ہاں امانت رکھوا کر قرضہ لے لیں، لیکن ہمیں اس پر کا میابی نہیں ہوئی ،میری گھر والی نے اپنے والدین کی اجازت اور مشورہ سے وہ سونا اپنے طور پر فروخت کروایا، چونکہ سونا بھی وہ میرے گھر نہیں لائی تھی ،انہوں نے اپنے ماموں کے ہاں رکھوایا ہوا تھا، اس فروخت کرنے میں اُن کے ماموں ایک اور آدمی اور میرے بھائی تھے، میں اس معاملے میں بالکل شریک نہیں ہوا، بہر حال میری بیوی کا زیور اس طرح ان حضرات نے فروخت کر کے اس وقت مجھے ساٹھ ہزار روپے دیے ، میں نے بھی یہ وعدہ کیا تھا کہ میری بیسی نکلنے والی ہے، یہ رقم میں لوٹا دونگا، مگر میں نہیں لوٹا سکا ،اب طلاق کی صورت میں وہ اس بات پر مصر ہیں کہ ہمیں آٹھ تولہ سونا دو، ہم ساٹھ ہزار روپے نہیں لیں گے ،میں کہتا ہوں کہ آپ نے مجھے تو رقم دی تھی، اور اسی کی واپسی کا میں نے وعدہ کیا تھا، لیکن وہ بضد ہیں کہ آپ ہمیں آٹھ تولہ سونا دیں، جبکہ سونا اب بہت مہنگا ہو چکا ہے ،قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ مجھ پر ساٹھ ہزار روپے لوٹانا واجب ہے یا کہ آٹھ تولہ سونا ؟
مذکور رقم مبلغ ساٹھ ہزار روپے لیتے وقت اگر واقعۃً اس بات کی صراحت کر دی گئی تھی کہ بیسی نکلنے پر یہ رقم واپس لوٹا دوں گا اور ابھی تک اس رقم کے لوٹانے میں کوتاہی ہوئی ہو تو اتنی مدّت گزرنے کے باوجود سائل پر مبلغ ساٹھ ہزار روپے کی ادائیگی ہی لازم ہے ،اس سے زائد نہیں، اِلَا یہ کہ اگر وہ اپنی مرضی اور خوشی سے کچھ زیادہ دینا چا ہے، تو اس کا اُسے اختیار ہے مگر اس زیادتی کے لئے اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کما فی حاشية ابن عابدين: وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها، وكذلك كل ما يكال ويوزن فالقرض فيه جائز، وكذلك ما يعد من البيض والجوز اهـ و في الفتاوى الهندية: استقرض حنطة فأعطى مثلها بعدما تغير سعرها يجبر المقرض على القبول اھ (5/ 162)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0