کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کہ کسی علاقہ میں یہ رواج ہے کہ دولہن کے ساتھ جہیز میں قرآن پاک دیا جاتا ہے برکت کے لئے ،پھر دلہن جب دولہا کے گھر جاتی ہے ،تو اس کو تبرکاً پڑھنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ایک گھرانے میں شادی ہوئی دلہن جب دلہا کے گھر جا چکی ،تو وہ قرآن جو جہیز میں ساتھ لائی ، اس کو دولہن کی بچی نے اس کو پڑھنے کے لئے دیا، اس موقع پر دولہن کی ماں وہاں پر موجود تھی ،وہ دولہن کی بچی سے بول اُٹھیں کہ میری بیٹی کا وضو نہ تھا ،تو اس کو بے وضو حالت میں قرآن پڑھنے کو دیا، تو نے میری بیٹی کو قسم دی ہے، جب کہ بیٹی کا کہنا ہے کہ میرا وضو تھا، اس پر دونوں فریق آپس جھگڑے پر آمادہ ہو گئے، آیا یہ قسم ہو گی کہ نہیں؟ وضاحت فرما کر مشکور فرمائیں۔
اولاً جب لڑکی خود کہہ رہی ہے کہ میں باوضو تھی، تو اس کی ماں کے قول کا اعتبار نہیں، اور ثانیاً اگر وہ بالفرض بے وضو بھی ہو تو اس حالت میں قرآن کریم کا چھونا اگرچہ جائز نہیں، مگر اس طرح پڑھنے سے قسم نہیں ہو جاتی، ایسی باتوں کو جھگڑے کی بنیاد بنانا قطعاً درست نہیں۔بلکہ بے وقو في اور جہالت کی باتیں ہیں، جن سے بچنا چاہیئے۔
كما قال الله تبارك و تعالى: {لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ } [الواقعة: 79]۔
و في الفتاوى الهندية: وأما ركن اليمين بالله فذكر اسم الله أو صفته وأما ركن اليمين بغيره فذكر شرط صالح وجزاء صالح كذا في الكافي والشرط الصالح ما يكون معدوما على خطر الوجود اھ (2/ 51)۔
و في الخانية: اليمين على نوعین یمین بالله و یمین بغیرہ أما الیمین باللہ تعالٰی فھو ذکر اسم الله بحرف القسم مقرونا بالخبر واليمين بغيره ذكر شرط صالح و جزاء صالح اھ (۲/ ۲) ۔