میں ایک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم ہوں جو صحتِ عامہ کے انتظام سے متعلق تعلیم حاصل کر رہا ہے، میں کل وقتی طالب علم ہوں، جارج ٹاؤن جامعہ کا جو واشنگٹن، امریکہ میں ہے، مجھے اپنی تعلیم کے سلسلے میں معاشی مسائل کا سامنا ہے، مجھے یہاں کام کرنے کی (نوکری) کی اجازت نہیں ہے۔ اور مجھے مجبوراً اپنے اخراجاتِ تعلیمی ودیگر کے لئے بینک سے قرض لینا پڑتا ہے۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ ہماری شریعت میں ان حالات یا کسی اور حالات میں قرض لینے کی اجازت ہے یا نہیں؟ میرے ایک جاننے والے جو مذہبی عالم ہیں اور ان کا گہرا علم ہے شرعی احکام کا ، ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کے لئے قرض لینا جائز نہیں، ہماری شریعت میں، شریعت کی روشنی میں جواب دیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کو تعلیمی اخراجات پورا کرنے کے لئے اپنے گھر کی طرف سے معاونت کی کوئی صورت ممکن نہ ہو اور بینک سے ملنے والے قرض پر سود ادا کرنا پڑتا ہو تو اس صورت میں بینک سے قرض لینا اور اس کے ذریعہ اپنی تعلیم جاری رکھنا جائز نہیں، اسے چاہئیے کہ اپنے کسی دوسرے عزیز یا دوست وغیرہ سے قرضِ حسنہ کے طور پر کچھ رقم لے لے اور اس کے ذریعہ اپنی تعلیم مکمل کر کے بعد میں اس رقم کا انتظام کر کے یہ بھی ادا کرے۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0