جناب مفتی صاحب! السلام علیکم !
میں اپنا ایک مسئلہ بیان کر رہی ہوں میرے شوہر کی زیادہ آمدنی نہیں ہے جو تنخواہ آتی ہے وہ سب بچوں کی پڑھائی اور دوسرے اخراجات میں خرچ ہو جاتی ہے اس میں سے کچھ خاص بچت نہیں ہوتی اور میرے سسرال سے جو ہمیں حصہ ملا تھا تو اس کی میں نے زمین خرید لی ہے کچھ رقم ہمارے پاس موجود نہیں ہے، اب گھر بنانے کے لئے پیسے نہیں ہیں، جبکہ میں کرائے پر رہ رہی ہوں میں اب چاہتی ہوں کہ عمران خان نے جو اسکیم نکالی ہے میں اس سے لون لے لوں، میزان بینک یا اسلامی بینک ہے اور وہ ہمیں پرافٹ بتا کر لے رہے ہیں ، ہماری سہولت کے مطابق قسط باندھ رہے ہیں میں چاہ رہی ہوں کہ میں لون لے لوں اور پھر بی سی کی صورت میں ہر ماہ ادا کرتی رہوں گی اور تقریباً لون ادا کرنے کی مدت 20 سے 25 سال تک ہے ، اس سلسلے میں میں آپ سے فتویٰ چاہتی ہوں اس مسئلہ میں آپ میری اسلام کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔ شکریہ
واضح ہو کہ ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک اور اسلامی بینک کسی کو قرض دیکر اس پر اضافی رقم وصول نہیں کرتے، بلکہ اگر کسی کو کوئی ضرورت ہو تو اس کی ضرورت کے مطابق بیع المرابحہ ، مشارکہ اور بیع المؤجل وغیرہ شرعی اصولوں کے تحت معاملہ کیا جاتا ہے ، لہذا میزان بینک یا اسلامی بینک کے توسط سے ایزی ہوم اسکیم کے ذریعے گھر کی خریداری کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، تاہم اگر سائلہ کو اس حوالے سے کوئی اشکال ہو یا مذکور بینکوں کی طرف سے واقعۃً کوئی کوتاہی محسوس ہو رہی ہو تو اس کی وضاحت اور نشاندہی کر کے سوال دوبارہ بھیج دے تو اس پر غور و فکر کے بعد انشاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
کمافی بحوث قضایا فقھیۃ: فالطریق الاول ھو ان یتملک الممول بیتا ثم یبیعہ الیٰ العمیل بربح بیعاً مؤجلاً ویستلم منہ الثمن باقساط معلومۃ فی عقد البیع ویمکن ان یعقد ھذا البیع المؤجل مطلقاً عن بیان نسبۃ الربح اھ(1/248)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0