کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں .!... اور مسماۃ ..... کے نکاح کو تین سال ہو چکے ہیں، اب تقریباً دس بارہ دن قبل میں نے اپنی بیوی کو یہ جملہ "طلاق ہے" کہا، پھر دس پندرہ منٹ کے بعد جرگہ والوں کے سامنے دوبارہ یہ جملہ "میری طرف سے طلاق ہے میری طرف سے آزاد ہے"کہہ دیا، جبکہ میری صرف ڈرانے کی نیت تھی، اور آزاد ہے کہ لفظ سے بھی طلاق ہو جاتی ہے ، مجھے اس کا علم بھی نہیں تھا، اس صورت میں طلاق کا کیا حکم ہے کہ کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور رجوع کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟سائل خود تین طلاق کا اقرار کر رہا ہے جبکہ موقع پر بیٹھے ہوئے گواہ دو بار طلاق کا جملہ سننے اور بولنے کا دعوی کر رہے ہیں، رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کے لیے شوہر کا الفاظِ طلاق بولنا یا اس کا اقرار کرنا کافی ہوتا ہے، بیوی یا دیگر لوگوں کا الفاظِ طلاق سننا ضروری نہیں۔ لہذا سائل نے جب سوال میں مذکور الفاظ "طلاق ہے، میری طرف سے طلاق ہے، میری طرف سے آزاد ہے" کہہ دیا ہے اور وہ تین طلاق دینے کا اقرار بھی کرتا ہے، تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے۔ اب رجوع نہیں ہو سکتا ہے اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
و فی الفتاوى الهندية: ولو قال لها: "أنت طالق"، ثم قال بعد ساعة أو يوم: "أنت طالق"، ثم قال كذلك ثالثةً، وقعت الثلاث، سواء نوى أو لا الخ (ج: 1، ص: 374، ط: دار الفكر، بيروت، لبنان)-
و فی الدر المختار: ويقع الصريح من غير نية، سواء تكلم به جادًا أو هازلاً الخ (ج: 3، ص: 235، ط: دار الفكر، بيروت)-
و فی الموسوعة الفقهية الكويتية: إذا تلفظ بالطلاق ثلاث مرات بألفاظ صريحة متفرقة، فإنها تقع ثلاثاً باتفاق الفقهاء الأربعة الخ (ج: 29، ص: 15، ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية، الكويت)-
و فی فتح القدير: ولو قال: "أنت طالق" ثم "أنت طالق" ثم "أنت طالق" وقعت الثلاث، وإن تفرقت بكلام، ما لم تكن على رجعة الخ (ج: 3، ص: 318، ط: دار الفكر، بيروت)-