عرض یہ ہے کہ مسمیٰ سائر حسین شاہ جس کی عمر 29 سال ہے گاؤں میں ایک لڑکی سے نکاح ہوا جس کی عمر 17/18 سال ہے ،لڑکی کی والدہ فون کرکے بتاتی ہے کہ اس لڑکے یعنی مسمیٰ سائر حسین شاہ جو اس کا داماد ہے نکاح سے پہلے جب اس لڑکی عمر 8 سال تھی اس لڑکے کے میرے ساتھ ناجائز تعلقات تھے یعنی ہمبستری کرچکے ہیں ، یہ بات اس عورت نے اور اس لڑکے نے نکاح سے پہلے نہیں بتائی جبکہ ابھی تک لڑکی کی رخصتی بھی نہیں ہوئی ، اب لڑکے سے بھی پوچھا تو اس نے بھی تصدیق کی کہ میرے ناجائز تعلقات تھے اقرار کرلیا ابھی رخصتی نہیں ہوئی اور حق مہر میں تین تولہ سونا بھی لکھا ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ اور اس نکاح کی حیثیت باقی ہے ؟ یا سرے سے نکاح ہی نہیں ہوا اور اب لڑکی کے لئے کیا حکم ہے قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر مسمیٰ سائر حسین شاہ کے اپنی مذکور منکوحہ کی والدہ کے ساتھ عقد نکاح سے قبل واقعۃً ناجائز تعلقات رہے ہوں تو اس کی وجہ سے وہ دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں جس پر انہیں بصدق دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لئے اس طرح کے ناجائز تعلقات سے مکمل اجتناب لازم ہے ،جبکہ اس تعلق کے بعد چونکہ مذکور عورت کے اصول و فروع مسمیٰ سائر حسین شاہ پر حرام ہوچکے تھے اگرچہ اس حرمت کے علم نہ ہونے کی صورت میں یہ نکاح ہوا ہو تب بھی اس کی بیٹی سے کیا ہوا نکاح شرعاً درست منعقد نہیں ہوا اس لئے شوہر پر الفاظ متارکت جیسے " میں نے تجھے چھوڑ دیا یا میں نے نکاح کو فسخ کردیا وغیرہ " کہہ کر اس لڑکی کو اپنے عقد سے علیحدہ کرنا لازم ہے اور چونکہ ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ہے اس لئے مسمیٰ سائر حسین شاہ پر حق مہر کی ادائیگی بھی لازم نہ ہوگی نیز الفاظ متارکت کہنے کے بعد مذکور عورت بغیر کسی عدت کے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
کمافی مصنف ابن شیبہ :عن حجاج، عن أبي هانئ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من نظر إلى فرج امرأة، لم تحل له أمها، ولا ابنتها»".(480/3)
وفی الھندیۃ:فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت ۔(274/1)
وفیہ ایضاً:إذا وقع النكاح فاسدا فرق القاضي بين الزوج والمرأة فإن لم يكن دخل بها فلا مهر لها ولا عدة وإن كان قد دخل بها فلها الأقل مما سمى لها ومن مهر مثلها ۔۔۔۔ والمتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة أما لو أنكر وقال أيضا: اذهبي وتزوجي. كان متاركة لكن لا ينتقص من عدد الطلاق وبعدم مجيء أحدهما إلى الآخر بعد الدخول لا تحصل المتاركة وقال صاحب المحيط: وقبل الدخول أيضا لا تتحقق إلا بالقول (330/1)
وفی الشامیۃ(قوله أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق، وعدم مجيء أحدهما إلى آخر بعد الدخول ليس متاركة لأنها لا تحصل إلا بالقول. وقال صاحب المحيط: وقبل الدخول أيضا لا يتحقق إلا بالقول. (3/132)