شافعی مکتبِ فکر میں مشت زنی بالکل ممنوع ہے، اور مالکی مکتبِ فکر میں کیا اسے اس صورت میں بھی گناہ سمجھا جاتا ہے جب اسے زنا سے بچنے کے لیے کیا جائے؟ یا پھر حنفی اور حنبلی مکتبِ فکر کی طرح اس خاص صورت میں زنا سے بچنے کے لیے اسے حلال سمجھتے ہیں؟
مشت زنی (استمناء بالید) انتہائی قبیح اوربراعمل ہے ،احادیث طیبہ میں اس فعل بدکے مرتکب کے لیے بڑی سخت وعیدیں ورادہوئی ہیں ایک حدیث جسے اگرچہ محدثین نے سنداً ضعیف قراردیاہے، تاہم قرآن وسنت کےدیگردلائل سے اس کے مفہوم کی تائیدہوتی ہے،جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالٰی قیامت کے دن نہ گفتگو فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظرِ کرم فرمائیں گے ۔۔۔ اُن میں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرتا ہے (یعنی مشت زنی کرتا ہے ۔ شعب الإيمان (7/ 329)
لہذافقہائے کرام نے مشت زنی (استمناء بالید) کو عمومی طور پر حرام یا مکروہ تحریمی قرار دیا ہے، البتہ اگر کوئی شخص زنا کے ارتکاب کے قریب ہو جائے اور نکاح یا روزہ یا دیگر جائز ذرائع سے شہوت کو قابو میں نہ لا سکے، تو بعض فقہی مسالک میں بطورِ استثناء مشت زنی کی اجازت دی گئی ہے، تا کہ وہ شخص زنا جیسی کبیرہ گناہ سے بچ سکے۔
اب یہاں سائل کے سوال کے مطابق مسالک اربعہ کے فقہاءکرام کی آراء ان کی مستنداورمعتبرمراجع سے ذکرکی جاتی ہیں:
1۔فقہ مالکی:
مالکی فقہ میں مشت زنی کو مطلقاً حرام کہا گیا ہے، خواہ زنا کا خوف ہو یا نہ ہو۔البتہ ارتکابِ اخف المفسدتين (دو برائیوں میں سے چھوٹی کو اختیار کرنا) کے اصول کے تحت بعض مالکی علماء نے کہا ہے کہ اگر زنا کا قوی اندیشہ ہو اور اس سے بچنے کا کوئی اور راستہ نہ ہو، تو مشت زنی کی اجازت دی جائے گی۔
2۔فقہ شافعی :
فقہ شافعی میں مشت زنی (استمناء بالید) مطلقاً حرام ہے، حتیٰ کہ زنا سے بچنے کے لیے بھی جائز نہیں سمجھا گیا۔
3۔فقہ حنبلی:
فقہ حنبلی میں بھی مشت زنی کو حرام قرار دیاگیا ہے، مگر ضرورت و اضطرار کی حالت میں (جیسے زنا سے بچنے کے لیے) اس کی اجازت دی گئی ہے۔
4۔فقہ حنفی :
فقہ حنفی میں مشت زنی مکروہ تحریمی ہے، تاہم اگر زنا کے ارتکاب کا شدید اندیشہ ہو، تو بعض فقہاء نے کہا کہ اس حالت میں مشت زنی کی مشروط اجازت دی جا سکتی ہے۔
ان تمام فقہاء کرام کے اقوال کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوئی کہ جمہورفقہاء کے نزدیک بالقصداستمنا بالید یعنی اپنے ہاتھ سے منی خارج کرلینا ناجائز،حرام اورگناہ کبیرہ ہے ،فقہاء کرام سے جن مواقع پراس کی اجازت منقول ہے وہ بامرمجبوری قواعدفقہیہ"الضرورات تبیح المحظورات""اذا ابتلي ببليتين أختارأهونهما"کی روسے اجازت دی گئی ہے،لہذااس کو"الضرورۃ تتقدر بقدر الضروۃ"کی روشنی میں ہی اختیارکیاجاسکتاہے عام حالات میں اس کی اجازت بالکل نہیں اس لیے اس فعل شنیع سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل: ﴿وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِفُرُوجِهِمۡ حَٰفِظُونَ 5 إِلَّا عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِهِمۡ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ فَإِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُومِينَ 6 فَمَنِ ٱبۡتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡعَادُونَ ﴾ [المؤمنون: 5-7]
وفی شعب الإيمان :عن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "سبعة لا ينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة ولا يزكيهم، ولا يجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا إلا أن يتوبوا إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه، الناكح يده، والفاعل والمفعول به، ومدمن الخمر، والضارب أبويه حتى يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتى يلعنوا، والناكح حليلة جاره".(7/ 329 ط الرشد)
وفی شرح الخرشي على مختصر خليل - ومعه حاشية العدوي : اعلم أن استمناء الشخص بيده حرام، خشي الزنا أم لا، لكن إن لم يندفع عنه الزنا إلا به، قدمه عليه ارتكاباً لأخف المفسدتين. وفي استمنائه بيد زوجته خلاف، والراجح الجواز، وهو ما دخل تحت قول المصنف: "وتمتع بغير دبر". ولو أُكره على الزنا بمحرم أو أجنبية، قُدّمت الأجنبية؛ لأنها تباح في الجملة.»(2/ 358)
وفی المجموع شرح المهذب : (وأما) الاستمناء باليد فحرام بلا خلاف لأنه حرام في غير الإحرام ففي الإحرام أولى.(7/ 292 ط المنيرية)
وفی كشاف القناع : ومن استمنى بيده خوفا من الزنا أو خوفا على بدنه فلا شيء عليه) قال مجاهد: كانوا يأمرون فتيانهم يستغنوا به (ولا يجد ثمن أمة إذا لم يقدر على نكاح ولو لأمة) لأن فعل ذلك إنما يباح للضرورة وهي مندفعة بذلك (وإلا) بأن قدر على نكاح ولو أمة أو على ثمن أمة (حرم وعزر) لأنه معصية ولقوله تعالى: {والذين هم لفروجهم حافظون} [المؤمنون: 5] ولحديث رواه الحسن بن عرفة في حزبه قاله في المبدع.(6/ 125 ت مصيلحي)
وفی حاشية ابن عابدين = رد المحتار : مطلب في حكم الاستمناء بالكف (قوله: وكذا الاستمناء بالكف) أي في كونه لا يفسد لكن هذا إذا لم ينزل أما إذا أنزل فعليه القضاء كما سيصرح به وهو المختار كما يأتي لكن المتبادر من كلامه الإنزال بقرينة ما بعده فيكون على خلاف المختار (قوله: ولو خاف الزنى إلخ) الظاهر أنه غير قيد بل لو تعين الخلاص من الزنى به وجب؛ لأنه أخف وعبارة الفتح فإن غلبته الشهوة ففعل إرادة تسكينها به فالرجاء أن لا يعاقب اهـ زاد في معراج الدراية وعن أحمد والشافعي في القديم الترخص فيه وفي الجديد يحرم ويجوز أن يستمني بيد زوجته وخادمته اهـ وسيذكر الشارح في الحدود عن الجوهرة أنه يكره ولعل المراد به كراهة التنزيه فلا ينافي قول المعراج يجوز تأمل وفي السراج إن أراد بذلك تسكين الشهوة المفرطة الشاغلة للقلب وكان عزبا لا زوجة له ولا أمة أو كان إلا أنه لا يقدر على الوصول إليها لعذر قال أبو الليث أرجو أن لا وبال عليه وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم اهـ»(ط الحلبي2/ 399)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي : ولا يحل له إن قصد به قضاء الشهوة لقوله تعالى {والذين هم لفروجهم حافظون} [المؤمنون: 5] {إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم} [المؤمنون: 6] إلى أن قال {فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون} [المؤمنون: 7] أي الظالمون المتجاوزون فلم يبح الاستمتاع إلا بهما فيحرم الاستمتاع بالكف وقال ابن جريج سألت عنه عطاء فقال مكروه سمعت قوما يحشرون وأيديهم حبالى فأظن أنهم هم هؤلاء وقال سعيد بن جبير عذب الله أمة كانوا يعبثون بمذاكيرهم وإن قصد به تسكين ما به من الشهوة يرجى أن لا يكون عليه وبال»(1/ 323)