بخدمت جناب مفتی صاحب جامعہ بنوریہ! السلام علیکم جناب عالی : میری آپ سے گزارش ہے کہ میں بنارسی ذری کا کام کرتا ہوں ،میں نے اپنے سسر سے مبلغ ایک لاکھ بیس ہزار روپے بطورِ قرض لیے تھے، جس کا ٹائم ابھی سات ماہ باقی ہے، اب میرے گھر پر میری ساس اور سسر ایک سال سے رہ رہے ہیں، جن کی وجہ سے میری بیوی سے آئے دن جھگڑا رہتا ہے، میں اپنی ساس اور سسر کے اپنے گھر نہیں رکھنا چاہتا مگر اب وہ ضد کرتے ہیں کہ ہمارے پیسے واپس کر دو ہم واپس چلے جائیں گے اور میری بیوی بھی ان کے طرف داری کرتی ہے، میں بہت پریشان ہوں میری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، آپ سے میری درخواست ہے کہ شریعت و قرآن کی نظر میں میرا جواب پیش کیا جائے تاکہ میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے گناہ سے بچ سکوں، آپ کی عین نوازش ہوگی۔ معلوم کرانا ہے کہ ساس سسر کا میرے گھر رہنا، سالوں کا کھانا پینے کے لئے آنا بیماری علاج ومعالجہ کے لئے مجھ پر زبردستی کرنا، کیا یہ میری ذمہ داری بنتی ہے؟ اور ان کا رویّہ درست ہے؟
سائل کے سسر اور ساس کا اپنا قرضہ مانگنا تو درست ہے، مگر اس قرض کی وجہ سے سائل کے ہاں ڈیرہ ڈالنا اپنی تمام ضروریات کا مطالبہ اس سے کرنا قرض پر نفع ہونے کی وجہ سے سود اور ناجائز ہے، جس سے انہیں احتراز لازم ہے۔ جبکہ سائل کو چاہیئے کہ مناسب طریقے سے ان کو سمجھا کر ان کو رخصت کرے اور ان کے قرضے کا بھی انتظام کرے۔
کمافي الهداية شرح البداية: وكل دين حال إذا أجله صاحبه صار مؤجلا لما ذكرنا إلا القرض فإن تأجيله لا يصح اھ (3/ 60)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله في كل جمعة) هذا هو الصحيح، خلافا لمن قال له المنع من الدخول معللا بأن المنزل ملكه، وله حق المنع من دخول ملكه دون القيام على باب الدار، ولمن قال لا منع من الدخول بل من القرار؛ لأن الفتنة في المكث وطول الكلام، أفاده في البحر (3/ 603)۔
وفي مرقاة المفاتيح: (" لا يحل مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه. رواه البيهقي في " شعب الإيمان "، والدارقطني في "المجتبى" (5/ 1974)۔
وفي الدر المختار؛ وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0