قرض

قرض کی وصولی کی خاطر مقروض کے گھر میں رہنا

فتوی نمبر :
82612
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مالی معاوضات / قرض

قرض کی وصولی کی خاطر مقروض کے گھر میں رہنا

بخدمت جناب مفتی صاحب جامعہ بنوریہ! السلام علیکم جناب عالی : میری آپ سے گزارش ہے کہ میں بنارسی ذری کا کام کرتا ہوں ،میں نے اپنے سسر سے مبلغ ایک لاکھ بیس ہزار روپے بطورِ قرض لیے تھے، جس کا ٹائم ابھی سات ماہ باقی ہے، اب میرے گھر پر میری ساس اور سسر ایک سال سے رہ رہے ہیں، جن کی وجہ سے میری بیوی سے آئے دن جھگڑا رہتا ہے، میں اپنی ساس اور سسر کے اپنے گھر نہیں رکھنا چاہتا مگر اب وہ ضد کرتے ہیں کہ ہمارے پیسے واپس کر دو ہم واپس چلے جائیں گے اور میری بیوی بھی ان کے طرف داری کرتی ہے، میں بہت پریشان ہوں میری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، آپ سے میری درخواست ہے کہ شریعت و قرآن کی نظر میں میرا جواب پیش کیا جائے تاکہ میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے گناہ سے بچ سکوں، آپ کی عین نوازش ہوگی۔ معلوم کرانا ہے کہ ساس سسر کا میرے گھر رہنا، سالوں کا کھانا پینے کے لئے آنا بیماری علاج ومعالجہ کے لئے مجھ پر زبردستی کرنا، کیا یہ میری ذمہ داری بنتی ہے؟ اور ان کا رویّہ درست ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے سسر اور ساس کا اپنا قرضہ مانگنا تو درست ہے، مگر اس قرض کی وجہ سے سائل کے ہاں ڈیرہ ڈالنا اپنی تمام ضروریات کا مطالبہ اس سے کرنا قرض پر نفع ہونے کی وجہ سے سود اور ناجائز ہے، جس سے انہیں احتراز لازم ہے۔ جبکہ سائل کو چاہیئے کہ مناسب طریقے سے ان کو سمجھا کر ان کو رخصت کرے اور ان کے قرضے کا بھی انتظام کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي الهداية شرح البداية: وكل دين حال إذا أجله صاحبه صار مؤجلا لما ذكرنا إلا القرض فإن تأجيله لا يصح اھ (3/ 60)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله في كل جمعة) هذا هو الصحيح، خلافا لمن قال له المنع من الدخول معللا بأن المنزل ملكه، وله حق المنع من دخول ملكه دون القيام على باب الدار، ولمن قال لا منع من الدخول بل من القرار؛ لأن الفتنة في المكث وطول الكلام، أفاده في البحر (3/ 603)۔
وفي مرقاة المفاتيح: (" لا يحل مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه. رواه البيهقي في " شعب الإيمان "، والدارقطني في "المجتبى" (5/ 1974)۔
وفي الدر المختار؛ وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 82612کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • حرام آمدنی والے سے قرض لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرض 4
  • حقوق العباد میں کوتاہی کی تلافی کیسے ممکن ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   قرض 0
  • کیاشہادت کی وجہ سے قرض بھی معاف ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال میں دیا ہوا قرض کس کرنسی میں واپس کرنا ہوگا؟

    یونیکوڈ   قرض 0
  • مقروض شخص کا کاروبار میں پیسہ لگانے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • میت پر قرض کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • میزان بینک سے ہوم فائنانس اسکیم کا حصہ بننا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   قرض 1
  • ایزی پیسہ سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 3
  • بچت کمیٹی کی ادائیگی کی تاخیر پر جرمانہ کی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال میں دیا ہوا قرض پاکستانی کرنسی میں واپس کرنے کے مطالبہ کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ایزی پیسہ لون کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 1
  • چائنیز کرنسی میں قرض دیکر پاکستانی کرنسی سے وصول کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض کی ادائیگی تک دکان کا کرایہ مانگنا

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • قرض کی ادائیگی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے مشروط کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • مروجہ کرنسی کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • کریڈٹ کارڈ پر واجب الادا قرض نہ لوٹانے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • When returning Dirhams obtained, on a later date, What is the rate applicable to repay??

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • قرض کی واپسی کو کسی اور چیز کے ساتھ معلق کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • اولاد باپ کو انکی زندگی میں جو کچھ بھی دے اگر قرض کی تصریح نہ ہو تو اس کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • پراویڈنٹ فنڈ کی مد میں قرض لے کراضافہ کے ساتھ لوٹانا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کر کے قرض دینے کے بعد مقروض سے ریال کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض معاف کرنے کے بعد اس کا تقاضہ کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • ساس سسر کا بہو سے حق مہر میں دیا گیا سونا لے کر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • عمرہ کمیٹی کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
Related Topics متعلقه موضوعات