السلام علیکم, مجھے فتویٰ نکلوانا ہے کہ عورت طلاق کے بعد دوسری شادی کب کر سکتی ہے ؟ مجھے لکھ کر فتویٰ چاھیے ہیئے۔
سائلہ نے طلاق سے متعلق تفصیل نہیں لکھی کہ یہ طلاق خلوت صحیحہ سے پہلے ہوئی یا بعد میں اور شوہر نے کن الفاظ کے ساتھ کتنی طلاقیں دی ہیں ،تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اگر شوہر نے نکاح اور خلوت صحیحہ کے بعد صریح الفاظ میں تین طلاقیں دی ہوں یا طلاق بائن ہوچکی ہو اورعورت حمل سے بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں عورت طلاق کے بعدایام عدت ( تین ماہواریاں )گزار کر اور اگر حمل سے ہو تو بچہ کی پیدائش کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے،لیکن اگر رخصتی اور خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو تو چونکہ اس صورت میں عدت واجب نہیں ہوتی ،لہذا ایسی صورت میں کسی مدت کا انتظار کیے بغیر دوسری جگہ نکاح کیا جاسکتاہے۔
کما فی مختصر القدوری:وإذا طلق الرجل امرأته قبل الدخول بها ثلاثا وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية وإذا قال لها: أنت طالق وواحدة وقعت عليها واحدة الخ(کتاب الطلاق،باب العدۃ،ص:157)
إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء والأقراء: الحيض وإن كانت لا تحيض من صغر أو كبر فعدتها ثلاثة أشهر وإن كانت حاملا فعدتها أن تضع حملها الخ(کتاب الطلاق،باب العدۃ،ص:169)
و فی بدائع الصنائع:وأما أحكام العدة فمنها أنه لا يجوز للأجنبي نكاح المعتدة لقوله تعالى ﴿ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله﴾ [البقرة: ٢٣٥] قيل: أي لا تعزموا على عقدة النكاح، وقيل: أي لا تعقدوا عقد النكاح حتى ينقضي ما كتب الله عليها من العدة ولأن النكاح بعد الطلاق الرجعي قائم من كل وجه، وبعد الثلاث والبائن قائم من وجه حال قيام العدة لقيام بعض الآثار، والثابت من وجه كالثابت من كل وجه في باب الحرمات احتياطا الخ (کتاب الطلاق:فصل فی الاحکام العدۃ، ج:3، ص: 204، ط: دارالکتب العلمیۃ)