کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمی محمد ۔۔۔ اور مسماة ۔۔۔ کے نکاح کو تقریباً سات سال ہو چکے ہیں، ابھی سات ماہ قبل کراچی میں ہم میاں بیوی کی لڑائی ہوئی اور میں نے غصے میں دو مرتبہ یہ جملہ کہ "تم میری طرف سے ازاد ہو، میں تمہیں نہیں رکھتا" پھر دوسرے دن دوبارہ ہماری لڑائی اور بحث و مباحثہ ہوا، جس میں میں نے پھر ایک بار مذکور جملہ کہا، یہ میرا حلفیہ بیان ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی کاو بال مجھ پر ہوگا اور اللہ کےہاں جواب دہی کے لیے بھی میں تیار ہوں۔
جبکہ بیوی کا حلفیہ بیان ہے کہ گاؤں جانے سے قبل مذکور الفاظ استعمال کرنے کے علاوہ یہ الفاظ بولے تھے کہ "تم میرے قابل نہیں ہو ،میں تجھے فارغ کروں گا"۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس واقعہ میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور رجوع وغیرہ کا کیا حکم ہے ؟ جبکہ ہم میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
واضح ہو کہ"تم میری طرف سے آزاد ہو " کا جملہ طلاق کے معنى میں صریح ہیں۔ اور صریح الفاظ میں نیت ہونے نہ ہونے کا اعتبار نہیں، اس لیے ان سے بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا سائل نے جب مذکور جملہ "تم میری طرف سے آزاد ہو " دو مرتبہ کہا تو اس سے سائل کی بیوی پر دو طلاقِ رجعی واقع ہو گئی تھیں، لیکن ایک دن بعد جب دوبارہ مذکور جملہ کہا تو اس سے تیسری طلاق بھی واقع ہو کر مجموعی طور پر تین طلاقوں کے ذریعہ حرمت ِمغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گنہ گار ہوں گے، جبکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں ازاد ہے ، تاہم اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو اس کے لیے حلالہ شرعیہ ضروری ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقدِ نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد ِنکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر پر شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد ِنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا، تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت حلال ہو جائے ، مکروہ ِتحریمی ہے ، اور اس پر احادثِ مبارکہ میں وعید وارد ہوئی ہے، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما قال الله تعالى في القرآن الكريم: فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غیرہ الخ۔ (البقرة: 230)۔
وفي رد المحتار: فإذا قال " رها كردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق الخ۔ (ج: 3، ص: 299)۔
و فی الدر المختار: (و یقع بھا) أی بھذہ الألفاظ وما بمعناھا من الصریح الخ
و فی رد المحتار: تحت (قولہ وما بمعناھا من الصریح) أی مثل ما سیذکرہ من نحو: کونی طالقا واطلقی ویامطلقۃ بالتشدید، و کذا المضارع إذا غلب فی الحال مثل اطلقک کما فی البحر اھ (کتاب الطلاق باب الصریح ج3 صـ 248 ط: سعید)-
و فی الھدایۃ: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ أو ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا (إلی قولہ) ویزاد علی النص بالحدیث المشھور و ھو قولہ علیہ السلام لا تحل للأول حتی تذوق عُسیلۃ الآخر الخ (کتاب الطلاق فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 2 صـ 409 ط: قدیمی)-
وفی الدر: (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللک (وإن حلت للأول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق كما حققه الكمال الخ۔ (ج: 3، ص: 414)۔