السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،مفتی صاحبان سے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میں ایک راشن کی دوکان سے راشن وغیرہ لیتا تھا، جہاں تک میرا خیال ہے، میں نے کبھی اس سے راشن ادھار نہیں لیا، ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں اس کی دوکان پر گیا راشن لینے تو اس نے کہا کہ آپ پر کچھ ادھار باقی ہے، میں نے کہا کہ بھائی ! مجھے تو یاد نہیں کہ میں نے کوئی ادھار دینا ہے آپ کاتو اس نے کہا کہ آپ یہ بتاؤ کہ دینے ہیں یا نہیں؟ میں نے کہا کہ یار مجھے نہیں یاد کہ میں نے کوئی ادھا ر دینا ہے آپ کا تواس نے کہا کہ ٹھیک ہے، نہ دو اور اگر اب تم کبھی دو گے بھی تو میں نہیں لوں گا آپ سے، میں یہ رقم تم سے آخرت میں لوں گا، مفتی صاحب ! میں آج بھی اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے ذرا یاد نہیں کہ میں نے اس کے کوئی پیسے دینے ہیں یا نہیں، لیکن میں اس بات کو لے کر پریشان رہتا ہوں کہ اگر میں نے سچ میں اس کی کوئی رقم دینی ہوئی تو آخرت میں کیا بنے گا اور اس نے یہ بھی کہا کہ اب میں نہیں لوں گا تو مفتی صاحب! مہربانی کر کے مجھے اسلام کی رو سے اس کا آسان حل بتا دیں، لیکن میں اب بھی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے ذرا یاد نہیں ہے کہ میں نے اس کی کوئی رقم دینی ہے۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر مذکور دکان دار کے پاس اس بات پر کوئی گواہ یا قابل اعتبار کوئی ثبوت موجود نہ ہو اور سائل کو اپنی بات پر مکمل اعتماد اور یقین ہو جس پر وہ قسم بھی اٹھاسکے تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ دکاندار کو ادھار کی ادائیگی لازم نہیں، لہذا بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
تاہم اگر سائل کو یقین نہ ہو تو ایسی صورت میں مذکور دکان دار کے پاس ادھار پر اگرچہ کوئی شرعی شہادت موجود نہ ہو، لیکن اگر سائل کو اس کی بات پر اعتماد ہو تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیے کہ اس کی بات پر اعتماد کرتے ہوئے وہ ادھار اس کے حوالے کردے، تاکہ اس ذمہ داری سے سبکدوشی ہوسکے۔
ففي المبسوط للسرخسي: ولا يستحلف المدعي شهوده عندنا وكان ابن أبي ليلى يقول عليه اليمين مع شهوده على قول علي بن أبي طالب - رضي الله عنه - ولكنا لا نأخذ به لقوله - عليه السلام - «البينة على المدعي واليمين على من أنكر» فهذا دليل على أنه لا يمين في جانب المدعي ولأن التقسيم الذي ذكره صاحب الشرع - عليه السلام - دليل على أنهما لا يجتمعان في جانب واحد يعني البينة واليمين.
وإذا لم يكن للمدعي شهود كان اليمين على المدعى عليه فإن قال المدعى عليه أنا أرد اليمين فإنه لا ترد اليمين عليه عندنا وقال ابن أبي ليلى إذا اتهمت المدعي رددت اليمين عليه في دعوى الديون لأنها مشروعة لدفع التهمة بها ولكنا نقول: اليمين لإبقاء ما كان على ما كان لا لإثبات ما لم يكن وحاجة المدعي إلى إثبات ما لم يكن ثابتا واليمين لا تصلح حجة في ذلك ثم هو مخالف للنص فإن «النبي - صلى الله عليه وسلم - قال للمدعي ليس لك إلا هذا شاهداك أو يمينه» فهو تنصيص على أنه لا يمين في جانب المدعي. (30/ 154)
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله عليه الصلاة والسلام «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل عليه الصلاة والسلام البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين. (6/ 225)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0