کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہندہ کے شوہر نے فون پر اپنی بیوی کو اِن الفاظ میں طلاق دی کہ" تجھے میں طلاق “ ابھی اِسی وقت تمہیں طلاق دیتاہوں ، سُنا تم نے ؟میں تُمہیں ابھی اِسی وقت طلاق دیتا ہوں ، دریافت یہ کرنا ہے کہ ہندہ کو کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ؟ شوہر کا کہنا کہ میں نے اللہ کو حاضر جان کر اوراُس کے رسول کو گواہ بنا کر دو طلاقیں دی ہیں۔ بعد میں جب طلاق کی آڈیو سُنی گئی ، تو ایک زائد لفظ طلاق کا سامنے آیا۔ جیسے کہ سوال میں درج کردیا گیا ہے۔
حضرات مفتیان کرام سے درخواست ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کا فیصلہ ہمیں سنائیں کہ ہم فورا عمل کرسکیں۔
صورت مسئولہ میں مذ کور شخص نے اگر سوال میں ذکر کردہ الفاظ " میں تجھے طلاق " " ابھی اسی وقت تمہیں طلاق دیتاہوں " "میں تُمہیں ابھی اِسی وقت طلاق دیتا ہوں " کے ذریعے اپنی بیوی کو طلاقیں دی ہیں ، تو اس سے اس کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوچکی ہیں ، جبکہ پہلا جملہ " میں تجھے طلاق" ایک ادھورا جملہ ہے ، جس میں طلاق کے واقع کرنے یا نہ کرنے کی کوئی صراحت نہیں ، جس پر مذکور شخص حلف اٹھانے کو بھی تیار ہے ، لہذا اس ناقص جملہ کی وجہ سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ، چنانچہ اس شخص کو عد ت کے دوران رجوع کرنے کااختیار حاصل ہے ، اگر وہ دوران عدت زبانی طور پر رجوع کرے مثلاً:" میں رجوع کر تا ہوں" کہہ دے کر یا عملا میاں بیوی والا تعلق قائم کر ے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھو لے ، تو اس سے بھی رجوع درست ہوکر ان کا نکاح حسب سابق برقرار ر ہے گا، بصورت دیگر عدت گزر جانے پر دونوں کا نکاح بالکلیہ ختم ہوجائے گا ، اور عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ، تاہم اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں ، تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کرنے کےبعد ساتھ رہ سکتے ہیں ، لیکن ہر دو صورت شوہر کو آئندہ کے لیے فقط ایک طلاق کا اختیار حاصل ہوگا ، اس لیے آئیندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قولہ أولم ینو شیئاً) لما مر أن الصریح لایحتاج الی النیۃ ، و لکن لابد فی وقوعہ قضاء ودیانۃ من قصد اضافۃ لفظ الطلاق الیھا الخ (باب الصریح ج: 3 ص: 250 ناشر: سعید ) ۔
و فی بدائع الصنائع : ومنھا الاضافۃ الی المرأَۃ فی صریح الطلاق حتی لو أَضاف الزوج صریح الطلاق الی نفسہ بأن قال، أنا منک طالق ، لا یقع الطلاق واِن نوی الخ ( فصل فی شرائط رکن الطلاق ج:3 ص: 141 ناشر: دارالکتب العلمیۃ )
وفی رد المحتار: تحت (قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر اھ (باب صریح الطلاق ج: 3 ص: 248 ناشر: الحلبی)