کیا فرماتے ہیں مفتیانِ دین و شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے دوبئی فون کر کے یا کوئی اور ذریعہ سے ایک آدمی سے تین لاکھ روپے دس بیس دن کے لئے قرض لینا چاہا، اس آدمی نے درہم کرنسی کو پاکستانی تین لاکھ روپے میں تبدیل کرکےتین لاکھ روپے بذریعہ (ہنڈی) حوالہ ارسال کیے۔ انہوں نے لے لیے۔ قرض لینے والے نے جب تین لاکھ پاکستانی روپے دس بیس دن کے بعد قرض دینے والے کو واپس بھیج دیے۔ تو اس نے دعوی کیا کہ اب یہاں درہم کی قیمت بڑھ گئی ہے اور مجھے تین لاکھ پاکستانی روپے میں بنسبت درہم کے آٹھ ہزار روپے نقصان ہو گیا۔ لہٰذا آٹھ ہزار روپے نقصان مجھے ادا کرو۔اب امرِ مطلوب یہ ہے کہ یہ آٹھ ہزار روپے کا نقصان قرض لینے والے کے ذمہ ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟
قرض خواہ نے جب ،تین لاکھ پاکستانی کرنسی بطورِ قرض دی تھی تو اب وہ وہی کرنسی واپس لینے کا حقدار ہے، چاہے درہم کی قیمت کم ہو یا زیادہ ،لہذا اس کا مذکور مطالبہ بلا شبہ نا جائز اور سود پر مبنی ہو نے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
قال الله تعالى ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (آل عمران: 130)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0