کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا میرے اوپر تقریباً اکیس ہزار (۱۲۰۰۰) روپے قرضہ تھا، جس کی ادائیگی کے لئے ایک تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ لیکن مقرّرہ تاریخ پر ادا نہ کرنے کی وجہ سے شخص مذکور نے میرے گھر سےمیری دو بکریاں میری عدم موجودگی میں میری بیوی سے لے کر لے گیا ۔ اور کہا کہ یہ دو بکریاں انہیں اکیس ہزار میں سے آٹھ ہزار کے عوض ہو جائینگے ۔ اور بقایا نقد کی صورت میں وصول کرونگا۔ حالانکہ ان دونوں بکریوں کی قیمت تقریباً اٹھارہ ہزار تھی۔ جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے تو آدمی گواہ بنا کو بھیج دیا کہ شخصِ مذکور کو کہے کہ میری بکریاں واپس کر دے اور میں آپ کی رقم کو ادا کرونگا ۔ اس لئے کہ بکریاں میری ملکیت ہے اس میں میری بیوی کا کوئی حق نہیں ۔ اور یہ بات میں نے خود شخصِ مذکور کو فون پر بھی بتادی لیکن وہ ابھی انکار کرتا ہے اور بکریاں واپس نہیں کرتا ۔ جبکہ میں اس کے بعد اس کے بھائی کو اٹھارہ ہزار روپے دیکر بھیج چکا ہوں، لیکن وہ لینے سے انکار کرتا ہے ۔ اب میرا سوال ہے کہ شخصِ مذکور کا میری بکریوں پر قبضہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جبکہ اس کو اس کا قرضہ نقد کی صورت میں ادا کرنے کے لئے تیار ہوں۔
جب قرضدار رقم دینے سے انکاری نہیں تو قرض خواہ کا اس کی بکریوں کو بلا اجازت کم قیمت لگا کر اپنے قبضہ میں کر لینا جائز نہیں، اس پر لازم ہے کہ بکریاں واپس کر کے اپنی رقم وصول کرے۔
کمافی تکملۃ فتح الملھم: وتفصیل المسئلۃ علیٰ ماذکرہ ابن قدامۃ فی المغنی،ان من ظفر بشیئ من مال المدیون،فانہ لایخلو من احوال ان کان المدیون مقراً بالدین باذلالہ،لم یکن للظافر ان یاخذ فیما ظفر بہ،الا مایعطیہ المدیون برضاہ اھ(2/578)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0