کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنے دوست کو 2006 میں دولاکھ روپیہ قرض دیا تھا، جس کے واپسی کا کوئی معیّن مدت مقرر نہیں تھا، درمیان میں میں اس سے اپنی رقم کا مطالبہ کر تا رہا ،مگر وہ اس کے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اس نے مجھے نہیں لٹائے، اب اس کے کاروبار میں ترقی ہوئی ہے ، اور وہ میرا قرض لوٹانا چاہتا ہے قرض کی ادائیگی میں وہ مجھے ساڑھے تین لاکھ روپیہ دے رہا ہے، کیا میرا اس سے دولاکھ کے بدلے ساڑھے تین لاکھ روپیہ لینا جائز ہے ؟ جبکہ وہ اپنی خوشی سے دینا چاہتا ہے؟
واضح ہو کہ دولاکھ روپیہ قرض دے کر اس پر مشروط یا معروف طریقہ سے اضافی ڈیڑھ لاکھ روپیہ لینا صریح سود ہے، اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ قرض فقط دو لاکھ ادا کرنے کے بعد اگر سائل کا دوست بغیر کسی مطالبہ کے اپنی رضا و خوشی سے کچھ رقم گفٹ وغیرہ کے نام سے دینا چاہے تو اس کے لینے میں شرعاً بھی کوئی حرج نہیں۔
كما في الفتاوى الهندية: وهو في الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال وهو محرم في كل مكيل وموزون بيع مع جنسه (إلی قوله) وما يباع بالأواقي بجنسه مثلا بمثل صح وإن تفاضل أحدهما لا يصح وجيده ورديئه سواء حتى لا يصح بيع الجيد بالرديء مما فيه الربا إلا مثلا بمثل اھ (3/ 117)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0