انیس رمضان کو معمولی تلخ کلامی پر میری بیوی میکے چلی گئی، اس پرمیرے سسر نے مجھےفون کر کے ماں کی بے تحاشا گالیاں دی، یہ دن۱بجے کا ٹائم تھا، میں نے غصے میں بیوی کو کہا کہ ابھی دن کا ایک( ۱) بج رہا ہے اگر آپ شام ۶چھ بجے تک گھر واپس نہیں آیئ تو مجھ پر طلاق ہو جاؤگی،یہ بات میں نے چھ دفعہ دہرائ، یہ سن کر بیوی گھر آرہی تھی لیکن اس کے باپ نے اس کو کہا کہ اب تجھے میری لاش کے اوپر سے جانا ہو گا اور دھمکی دی کہ میں تجھےچھوڑوں گا نہیں، بارہا کوشش کے باوجود اس نے نہیں آنے دیا اور اسی کشمکش میں شام کے چھ بج گئے اور ٹائم ختم ہو گیا؛ میرے سسر چرس کا نشہ کرتے ہیں، میری نیت بیوی کو طلاق دینے کی نہیں تھی محص ڈرانا تھا کہ گھر آ جائے برائے مہربانی میرے مسئلہ کاشرعی حل بتا دیں۔
واضح ہوکہ طلاق کو کسی شرط کےساتھ معلق کرنے کی صورت میں اس شرط کے پائے جانے کے ساتھ طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے مذکور الفاظ:"ابھی دن کاایک (1)بج رہاہے ،اگرآپ شام چھ بجے تک گھرواپس نہیں آئی تو مجھ پرطلاق ہوجاؤں گی " کہنے سے طلاق معلق ہوگئی تھی،جب سائل کی بیوی چھ بجے تک گھرواپس نہیں آئی ،اورسائل کے بقول اس نے مذکورالفاظ چھ باردہرائےتھے، تواس سے اس کی بیوی پر معلق چھ طلاقوں میں سےتین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اورباقی تین طلاقیں ،عورت کے طلاق کامحل نہ ہونے کی وجہ سے لغوہوگئیں،لہذا اس صورت میں نہ تو رجوع ہو سکے گا ، اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کےدوبارہ عقدِ نکاح ہو سکے گا، جب کہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
کما فی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» :(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا»(3/ 355)
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» : ثم الشرط إن كان شيئا واحدا يقع الطلاق عند وجوده بأن قال لامرأته إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو أنت طالق إن دخلت هذه الدار يستوي فيه تقديم الشرط في الذكر وتأخيره وسواء كان الشرط معينا أو مبهما»(3/ 30)
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» :وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية»(1/ 473)