السلام علیکم۔۔۔ میرے ابو نے امی کو طلاق دے دی ہےاور انھوں نے لیا ہوا حق مہر دینے سے انکار کیا ہے حق مہر نکاح نامہ میں ادا کر دیا گیا ہے جبکہ شادی کے بعد وقتاً فوقتاً بہانے سے سونا لیا گیا مجھ سے اور بچا ہوا سونا جس سے دو کمروں والا فلیٹ پگڑی پر لیا جوکہ اب کے دور میں چار لاکھ کا بک رہا شوہر کا کہنا ہے امی کا حق مہر اسکے علاج پر لگا کے ختم کیا ہے اور حق مہر چھ تولا سونا سے ذیادہ ہے مگر امی صرف چھ تولے مانگ رہی ہے اور ابو دینے سے منع کر رہے ہیں ہم دو بہنیں اور تین بھائ ہیں جن میں سے بڑی بہن کی شادی ہو چکی ہے باقی ہم سارے بہن بھائی امی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں امی کو گھر سے نکالنے کے لیے بہت تماشے کیے ابو نے جبکہ ہم نے عالم سے فتویٰ لیا تھا کہ عدت شوہر کے گھر ہوگی اور نان و نفقہ بھی مگر ابو نے ان باتوں کو نظر انداز کیا اور امی کو گھر سے نکال دیا اور عدت کا کوئی خرچ نہیں دے رہا نہ ہی حق مہر دینا چاہتا ہے اب اس صورت میں کیا کرنا چاہیے شریعت میں اسکا کیا حکم ہے؟
نوٹ :سائلہ نے فون پروضاحت کی ان کے والدنے شادی کے بعدحق مہرکے طورپرطے شدہ چھ تولہ سوناان کی والدہ کواداکردیاتھا،پھربعد میں بعض مواقع پرضرورت کاعذرپیش کرکے واپس لے لیاتھا۔اب طلاق کے بعدان کی والدہ اسی سونے کی واپسی کامطالبہ کررہی ہیں۔
واضح ہوکہ حق مہر عورت کا شرعی حق ہے اور نکاح ہوتے ہی شوہر پر لازم ہو جاتا ہے۔ علاج معالجہ، گھریلو اخراجات یا دوسرے مصرف میں رقم خرچ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ حق مہر ادا ہو گیا،حق مہرشوہرکے ذمہ اس وقت تک واجب الاداءرہتاہے جب تک کہ وہ اداء نہ کردے یاعورت خود باقاعدہ دلی رضامندی سےمعاف نہ کردے۔لہذاصورت مسئولہ میں سائل کے والدنے اگر شادی کے بعد حق مہرکے طورپرمقررسونا اپنی بیوی کودیکرباقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ اس پرقبضہ بھی دیدیاہو(جیساکہ سوال سے واضح ہورہاہے)،تواس سے حق مہرکی ادائیگی ہوچکی اوروہ سائل کے والدکےذمہ سے بطورحق مہرساقط ہوگیاہےتاہم اس کے بعداگرسائل کا والدکسی بہانے یا وقتی طور پر سونا لیکر اس کا مالک خود بن گیا (مثلاً بیچ کر فلیٹ لیا)، تواگریہ سونا جوسائل کی والدہ کی ملکیت تھا،اس نے اپنےشوہر کوبطورھدیہ (تحفہ ،گفٹ )نہ دیاہوبلکہ محض وقتی ضرورت کوپوراکرنے کے لیے بطورقرض دیاہوتواس صورت میں سائل کے والدپر اس سونے کی قیمت یا متبادل واپس کرنا واجب ہے۔
جبکہ طلاق کے بعد عدت (تین ماہواریاں یا حاملہ ہو تو ولادت تک) میں بیوی کا نان و نفقہ اور رہائش شوہر کے ذمے واجب ہوتی ہے؛بیوی کو اس دوران زبردستی گھر سے نکالنا سخت گناہ ہے۔جس پرسائل کے والدپربصدق دل توبہ واستغفارکرنالازم ہے، البتہ عدت گزرنے کے بعدسائل کی والدہ کو بطورہرجانہ اس کےمطالبہ کاحق حاصل نہیں ۔
کما فی الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: يجب على المقترض أن يرد مثل المال الذي اقترضه إن كان المال مثليا بالاتفاق، ويرد مثله صورة عند غير الحنفية إذا كان محل القرض مالا قيميا، كرد شاة تشبه الشاة التي اقترضها في أوصافها. (5/ 3793)
و فی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : (الباب الثالث عشر في العدة) هي انتظار مدة معلومة يلزم المرأة بعد زوال النكاح حقيقة أو شبهة المتأكد بالدخول أو الموت كذا في شرح النقاية للبرجندي. رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا في فتاوى قاضي خان.» (1/ 526)
«تحفة الفقهاء : المعتدة إما إن كانت عن طلاق أو عن وفاة
فإن كانت عن طلاق ينبغي لها أن لا تخرج من بيتها ليلا ولا نهارا بل يجب عليها السكنى في البيت الذي تسكن فيه وأجر السكنى والنفقة على الزوج
وأصله قوله تعالى و {لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة}(2/ 249)
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي : والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء، وبعده ترجع بما أنفقت ولو من مال نفسها بلا أمر قاض.»
(قوله والنفقة لا تصير دينا إلخ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة.» (3/ 594)