کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ِذیل مسائل کے بارے میں :
سوال: کیا بیوی کو یہ کہنا کہ ”اگر تم میرے ساتھ نہیں رہتی تو میں تمہیں فارغ کردونگا “ یا ” طلاق دے دونگا “ کیا ایسا کہنے سے طلاق ہوئی یا نہیں ؟ اگر نہیں ہوئی اور معاملات درست نہیں ہوئے اور شوہر طلاقِ اول کا تحریراًنوٹس بھیج دے ، تو اس کے بعد رجوع کتنے دن میں ہوسکتا ہے ؟
سوال: اگر میاں بیوی کی لڑائی ہوجائے اور معاملات اس نوبت کو جا پہنچے کہ بیوی کی ایک ہی ڈیمانڈ ہو کہ میں آپ کے ساتھ گھر بسانے پر راضی ہوں ،مگر شرط یہ ہے کہ آپ اپنا گاؤں چھوڑ کر میرے شہر میں آکر رہیں ، جبکہ شوہر کی نوکری اور گھر دیہات میں ہو ، تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے ،جس سے بیوی اور شوہر کے والدین دونوں کو نہ چھوڑنا پڑے ، کیا بیوی کی شرط ماننا لازم ہے ؟
1۔ و اضح ہو کہ مذکور الفاظ ” اگر تم میرے ساتھ نہیں رہتی تو میں تمہیں فارغ کردونگا“ یا ”طلاق دے دونگا“وعدۂ طلاق اور طلاق دینے کی دھمکی کیلئے استعما ل ہوتے ہیں ، اور محض وعدۂ طلاق اور طلاق دینے کی دھمکی سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، اس لئے مذکور الفاظ کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ جبکہ تحریراً طلاق کا نوٹس بھیجنے سے بھی طلاق واقع ہوتی ہے ، لہذا سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ اگر مطابقِ اصل ہو اور شوہر مسمی زید نے بلا کسی جبر و اکراہ کے مذکور طلاق نامہ پر دستخط کیے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے ، اور مذکور شخص کو تین حیض ( تین ماہواریاں ) گزرنے سے قبل رجوع کا اختیار ہے ، چناچہ اگر شوہر زبانی طور پر رجوع کرے مثلاً کہہ دے کہ میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ یا عملاً میاں بیوی والا تعلق قائم کرلے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چُھولے تو اس سے بھی رجوع درست ہوجائیگا اور دونوں کا نکاح بدستور قائم رہے گا ، ورنہ دورانِ عدّت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدّت گزرنے پر دونوں کا نکاح بالکلیہ ختم ہوجائیگااور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ، تاہم اس کے بعد ایک ساتھ رہنے کے لیے باہمی رضامندی سے نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا ، بہر دو صورت آئندہ کے لیے شوہر کو فقط (2) طلاقوں کا اختیار ہوگا، لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے ۔
2۔ شریعتِ مطہرہ نے نکاح کے بعد میاں بیوی کے معاشی و ذاتی حیثیت کا لحاظ رکھتے ہوئے شوہر کے ذمہ بیوی کے حقوق میں سے مہر، نفقہ اور رہائش وغیرہ لازم کر رکھا ہے ، لہذا بیوی کو رہائش کے مطالبہ کا حق اگرچہ ہے لیکن بیوی کا شوہر کو اپنا گاؤں چھوڑ کر بیوی کے شہر میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور کرنے اور ایسی شرط رکھنے کا کوئی حق و جواز حاصل نہیں ہے ، اس لئے صورتِ مسئولہ میں شوہر کے ذمہ بیوی کی مذکور شرط ماننا لازم و ضروری نہیں اور بیوی کو بھی ایسی بے جا شرائط لگانے سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی تنقیح الحامدیۃ: صیغۃ المضارع لایقع بھا الطلاق إلا إذا غلب فی الحال کما صرح بہ الکمال ابن الھمام إلخ( کتاب الطلاق، ج: 1، ص: 38، ط: حقانیۃ)۔
و فی الھندیۃ: (الفصل الأول فی الطلاق الصریح) و ھو کأنت طالق و مطلقۃ و طلقتک و تقع واحدۃ رجعیۃ و إن نوی الاکثر أو الإبانۃ أو لم ینو شیئا کذا فی الکنز إلخ( کتاب الطلاق، الباب الثانی فی ایقاع الطلاق، ج: 1، ص: 354، ط: مکتبہ ماجدیۃ )۔
و فی الھدایۃ: و إذا طلق الرجل امرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین، فلہ أن یراجعھا فی عدتھا رضیت بذلک أو لم ترض؛ لقولہ تعالی ( فامسکوھن بمعروف ) من غیر فصل، و لابد من قیام العدۃإلخ( کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج: 2، ص: 88، ط: مکتبہ انعامیۃ )۔
و فی البحر الرائق: و إنما ذکر البیت دون الدار لأنہ لو أسکنھا فی بیت من الدار مفردا و لہ غلق کفاھا لأن المقصود حصل (إلی قولہ) و یشترط فی الدار أن لایکون أحد من أحماء الزوج یؤذیھا کما فی الخانیۃ قالوا للزوج أن یسکنھا حیث أحب و لکن بین جیران صالحین الخ( کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج: 4، ص: 194، ط: ماجدیۃ ) ۔