السلام علیکم! بخدمت جناب : گزارش عرض یہ ہے کہ میری والدہ نےچار سال پہلے میری خالہ کی بیٹی کے ساتھ میرا رشتہ رسماًمنگنی کرائی تھی ، باقاعدہ نکاح نہیں ہوا ۔اب میں وہاں مزید رشتہ نہیں رکھنا چاہتا اور میرے منہ سے الفاظ بھی نکل چکے ہیں کہ ”اگر میرا نکاح وہاں ہوا تو میری طرف سےابھی سے اس لڑکی کو طلاق ہے “ تو کیا اب میری خالہ کی بیٹی کے ساتھ میری شادی جائز ہے ؟ یا بالکل نہیں ہو سکتی ؟ برائے مہربانی اس بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔
نوٹ : میں نے یہ جملہ کہا ہے تو کیا شادی ہوتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں ؟
سائل نے جب اپنی خالہ کی بیٹی کے متعلق مذکور الفاظ کہے ”اگر میرا نکاح وہاں ہوا تو میری طرف سے ابھی سے اس لڑکی کو طلاق ہے “ تو اس سے ایک طلاق معلق ہو چکی ہے ، چنانچہ جب بھی سائل اس لڑکی کے ساتھ نکاح کرے گا تو نکاح کرتے ہی اس لڑکی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی ، جس کے بعد اگر دونوں دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہنا چاہیں تو اس کے لئے پہلے نکاح کی طرح باضابطہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا لازم ہو گا ۔البتہ دوبارہ نکاح کرنے کے بعد سائل کی بیوی پرمزید کوئی طلاق واقع نہ ہو گی لیکن آئندہ کے لئے سائل کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا ۔
کما فی الھندیۃ: إذا اضاف الطلاق الی النکاح وقع عقیب النکاح نحو أن یقول لإمرأۃ إن تزوجتک فأنت طالق او کل إمرأۃ أتزوجھا فھی طالق و کذا إذا قال إذا أو متی و سواء خص مصرا او قبیلۃ او لم یخص الخ (الفصل الثالث ج: 1 ، ص: 420 ، ط: ماجدیۃ )۔
و فیھا أیضا: التعلیق بصریح الشرط یؤثر فی المرأۃ المعینۃ و غیر المعینۃ و التعلیق بمعنی الشرط یعمل فی غیر المعینۃ کما لو قال المرأۃ ألتی أتزوجھا فھی طالق و لا یعمل فی المعینۃ بأن قال ھذہ المرأۃ التی أتزوجھا فھی طالق فتزوجھا لا تطلق کذا معراج الدرایۃ الخ ( الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق ج: 1 ، ص: 420 ، ط: ماجدیۃ )۔
و فی الھدایۃ: و إذا أضاف الطلاق إلی النکاح وقع عقیب النکاح مثل أن یقول لإمرأۃ إن تزوجتک فأنت طالق أو کل إمراۃ أتزوجھا فھی طالق الخ ( باب الأیمان فی الطلاق ج: 2 ، ص: 398 ، ط: رحمانیۃ )۔