السلام علیکم!
محترم مفتی صاحب! برائےمہربانی ان مسائل میں میری رہنمائی فرمائیں:
(1) :میزان بینک، بینک اسلامی، بینک الفلاح المحدود، دوبئی اسلامک بینک، داؤد اسلامک بینک شرعی لحاظ سے کیسے ہیں ،اور ان سے نفع لینا کیسا ہے؟
۲:پاک قطر فیملی تکافل اور داؤد فیملی تکافل شرعی لحاظ سے کیسے ہیں، اور ان سے منافع لینا کیسا ہے؟
1:’’المیزان ‘‘ اور ”بینک اسلامی “ وغیرہ بینکوں کو بعض علماء کی طرف سے جو کاروباری فارمولا بتایا جاتا ہے، وہ اگرچہ دوسرے مروّج بینکوں سے کہیں بہتر اور شریعتِ مطہّرہ کے بھی قریب تر ہے، مگر اس نظام کو چلانے والے افراد اصولِ شرعیہ سے ناواقفیت کی بناء پر عموماً ان معاملات اور فارمولوں کو بجا لانے میں غلطی کر جاتے ہیں، جو دراصل ضابطہ کی خرابی اور غلطی نہیں، بلکہ متعلقہ فرد کی ناسمجھی اور غلطی ہوتی ہے، جس کی بناء پر انجام دیا جانے والا معاملہ بھی شرعاً ناجائز ہو جاتا ہے، لہٰذا ان کے ساتھ معاملہ کرتے وقت اس کے بارے میں پوری معلومات لیکر کسی مستند دارالافتاء سے اس کاحکمِ شرعی معلوم کر لیا جائے ، اور اُسکے مطابق عمل کیا جائے۔
(2): واضح ہو کہ ’’داؤد فیملی تکامل‘‘ کا پورا طریقہ کار تو ہمیں معلوم نہیں، اگر سائل کو معلوم ہو تو اسکی مکمل وضاحت کر کے اسکے متعلق حکمِ شرعی بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ ’’پاک قطر فیملی تکامل‘‘کا طریقہ کار ربا، قمار اور غرر سے پاک اور امدادِ باہمی و تعاون اور شرع کے اصول پر مبنی ہے اور اس میں وقف کا دخل ہو کر باعثِ اجر و ثواب ہے۔ اس لئے کمپنی کسی کی پالیسی لینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0