السلام علیکم!
عرض ہے کہ ایک آدمی کسی سے کچھ رقم ادھار لیتا ہے، اور یہ کہتا ہے کہ میں فلاں تاریخ تک آپ کو واپس کردوں گا، اگر نہ کی تو جو جرمانہ آپ چا ہے کرلیں، وہ مقررہ تاریخ تک رقم واپس نہیں کر سکتے ،تو قرض دینے والا اس کو 500 روپے ماہانہ جرمانہ کرتا ہے ،جب تک وہ رقم واپس نہیں کرتا،کیا یہ جائز ہے؟
2: ایک آدمی کو کاروبار کرنا ہے، وہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کیلئے اپنے دوست سے کہتا ہے کہ تم مجھے 60000 روپے دو ، میں آپ کو رقم کے حساب سے سالانہ نفع دوں گا، کیا اس طرح نفع لینا جائز ہے؟ - STATE LIFE INSURANCE کی ایک بیمہ پالیسی ہے ،جس میں آدمی ان کو سالا نہ کچھ رقم دیتا ہے، تو وہ 20 سال بعد نفع میں سے اس کی رقم کے حساب سے حصہ دیتے ہیں کیا اس طرح لینا جائز ہے ؟
3: اگر آدمی 20 سال سے پہلے فوت ہو جائے ،تو وہ سب لوگوں سے جتنے لوگوں نے بیمہ کرایا ہوتا ہے، 7 پیسے کاٹ کر اس فوت ہونے والے کو دیتے ہیں جو کہ کافی رقم بنتی ہے،تمام بیمہ داروں کو بھی اس بات کا علم ہوتا ہے، کیایہ جائز ہے؟
مذکور طریقہ کے موافق قرض میں تاخیر ہونے پر قرض خواہ کا اپنے مقروض سے قرض کے علاوہ مزید رقم لینا بلاشبہ تعزیز بالمال اور سود ہے، جو بہر صورت ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
۲: مذکور رقم لینے اور اس پر رقم کے حساب سے منافع کی بات سمجھ میں نہیں آئی، تاہم اگر رقم لینے والا دوسرے کو بھی منافع میں حصہ دار بنانا چاہتا ہو تو اس کا جائز اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ رقم دینے والے کو شریک یا مضارب بنالے اور فیصد یا حصہ کے اعتبار سے اُسے نفع دیدیا کرے۔
مروجہ بیمہ انشورنس پالیسیاں سود و قمار اور نا جائز شرائط پر مبنی ہیں، جو شرعاً حرام ہیں ،اس لئے بیمہ کرانا اور اس پر ملنے والا نفع بھی حلال نہیں، اور بصورتِ حادثہ وغیرہ اپنی جمع کرائی ہوئی رقم سے زیادہ وصول کرنا بھی جائز نہیں، کیونکہ یہ سود یا جوئے پر مبنی ہے۔
ففي الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)۔
وفي الدر المختار: ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها اھ (5/ 648)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0