میں نے اپنی بیوی کو دو بار زبان سے موبائل فون پر طلاق دی۔ میں نے تیسری طلاق نہیں دی۔ اسکے دس دن بعد میں نے اپنی بیوی سے رجوع کرلیا لیکن گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے میں نے 2 دن بعد سٹام پیپر پر دستخط کردیے۔ اور میں
دل سے طلاق نہیں دینا چاپتا تھا اسلیئے میں نے تیسری بار زبان سے اقرار نہیں کیا تھا
سائل نے دوبارفون پرزبان سے طلاق دینے کے بعددورانِ عدت رجوع کرلیاتھا،تووہ رجوع درست ہوگیاتھا،جس کے بعدسائل اوراس کی بیوی کے لیے میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہناجائزتھاتاہم سائل کے پاس آئندہ کے لیے صرف ایک طلاق دینے کااختیارباقی تھا،لہذاجب رجوع کے دودن بعدہی سائل نےطلاق کے اسٹام پیپرپردستخط کردئیے (اگرچہ دستخط گھروالوں کے دباؤپر کئے ہوں)چاہے اس طلاق کازبان سے اقرارنہ بھی کیاہوتب بھی سائل کی بیوی پرباقی ماندہ تیسری طلاق واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتااوربغیرحلالہ شرعیہ دوبارہ عقدنکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذاان دونوں پرلازم ہے کہ فوراایک دوسرے سے علیحدگی اختیارکریں اورعورت عدت گزارکردوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہے۔
وفی الدرالمختار: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.(3/246)ِ